شاہ فہد کی ایک اہلیہ کو 23 ملین ڈالر دینے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ TOI
Image caption شاہ فہد بن عبدالعزیز سنہ 2005 میں انتقال کر گئے تھے

لندن کی ہائی کورٹ نے سعودی عرب کے سابق بادشاہ شاہ فہد کے بیٹے کو اس خاتون کو دو کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا حکم دیا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ شاہ فہد کی اہلیہ تھیں۔

فلسطینی نژاد جنان حارب نے عدالت کو بتایا تھا کہ شاہ فہد نے 1968 میں ان سے اس وقت خفیہ شادی کی تھی جب وہ سعودی عرب کے وزیرِ داخلہ اور ایک شہزادے تھے۔

جنان کے مطابق سنہ 2005 میں شاہ فہد کے انتقال سے دو سال قبل ہی ان کے بیٹے عبدالعزیز بن فہد نے زندگی بھر کے لیے ان کا خیال رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔

تاہم سعودی شہزادے نے عدالت میں اپنے تحریری بیانات میں ایسے کسی وعدے سے انکار کیا تھا۔

منگل کو ہائی کورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ 68 سالہ جنان کا دعویٰ درست ہے اور وہ 23 ملین ڈالر اور لندن میں دو لگژری فلیٹوں کی حقدار ہیں۔

فیصلے کے بعد عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں جنان کا کہنا تھا کہ ’مجھے فیصلے سے اطمینان ہوا ہے مگر صرف خواہش ہی کر سکتی ہوں کہ شہزادہ اپنے باپ کی خواہش کا احترام کرے اور تاخیری حربے استعمال نہ کرے۔‘

عدالت نے سعودی شہزادے کو اس رقم کی ادائیگی کے لیے چار ہفتے تک کی مہلت دی ہے۔

اس مہلت کے دوران وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی کر سکتے ہیں۔