اسد خاندان کا اندازِ اقتدار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بشار الاسد کی حکومت کو چار سال سے شدید بحران کا سامنا ہے

شام میں گذشتہ چار سال سے جاری بحران میں اب دنیا کی بڑی طاقتیں بھی براہ راست ملوث ہو گئی ہیں، جن میں کچھ شام کے صدر کی حمایت اور کچھ ان کی مخالفت کر رہی ہیں۔

اسد خاندان گذشتہ چار دہائیوں سے اقتدار میں ہے لیکن انھوں نے یہ اقتدار کس طرح حاصل کیا اور اتنی طویل مدت تک کیسے اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھی؟

حافظ الاسد جدید شام کے معمار ہیں۔ بغاوتوں اور اقتدار کی رسہ کشی پر مشتمل کئی دہائیوں کے بعد حافظ الاسد نے شام کی فضائیہ کے سربراہ اور وزیر دفاع کی حیثیت سے قائم کردہ مراسم استعمال کر کے سنہ 1970 میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

اقتدار پر گرفت مضبوط رکھنے کے لیے حافظ الاسد نے ’لڑاؤ اور حکومت کرو‘ کے اصول اور شخصی آمریت کو اس حد تک استعمال کیا کہ وہ ایسی واحد شخصیت بن کر ابھرے جو ریاست کو یکجا رکھنے کی ضمانت دے سکتے تھے۔ ان کے جانشین کے حصے میں کمزور حکومت اور کمزور تر ریاستی ادارے آئے۔

حافظ الاسد کے بڑے صاحبزادے باسل کو مستقبل کے حکمران کے طور پر پروان چڑھایا گیا۔ لیکن سنہ 1994 میں ایک کار حادثے میں ان کی موت کا واقعہ بشارالاسد کو سامنے لے آیا۔

بشارالاسد نے جب سنہ 2000 میں اپنے والد کے انتقال کے بعد اقتدار سنبھالا تو بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ بھی اپنے باپ ہی کی طرح ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد بشار الاسد کو اپنے والد کے پرانے انقلابیوں کے ساتھ چلنا پڑا جن میں سے کئی سلامتی اور دفاع سے متعلق ریاست کے اہم اداروں پر طویل عرصے سے فائز تھے۔ لیکن اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے آہستہ آہستہ بشار نے ان کو علیحدہ کرنا اور اپنے حمایتیوں اور اعتماد کے لوگوں کو ان کی جگہ لانا شروع کر دیا۔

گو کہ یہ تمام ادارے سیاسی طور پر کمزور تھے، لیکن وہ ریاستی سرپرستی کا اہم ذریعہ تھے اور وہ ایوان صدر اور عوام کے درمیان روابط رکھنے کی بھی ایک اہم کڑی تھے۔

اس طرح ان ریاستی اداروں نے حکمرانوں اور سرکاری فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان مضبوط رشتہ قائم کر دیا اور اسی بنا پر وہ ریاست کو قائم رکھنے کے اہم ستون بن گئے۔

اپنے والد کے رفقا کو ریاستی اداروں سے علیحدہ کر کے بشار الاسد نے شہری اشرافیہ کو اہمیت دینا شروع کی جس سے ان ریاستی اداروں کی ساکھ کمزور پڑنے لگی۔

حافظ جن لوگوں کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے ان میں اکثر دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے اور انھوں نے اپنے علاقوں میں اپنی جڑیں قائم رکھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق شامی صدر حافظ الاسد اور ان کی اہلیہ انیسہ اپنے بچوں (بائیں سے دائیں) ماہر، بشار، باسل، مجد اور بشریٰ کے ساتھ

دوسری طرف بشار الاسد کے قریبی حلقوں میں زیادہ تر شہری اشرافیہ کے بچے شامل تھے جو ان کے ساتھ شہروں میں پروان چڑھے تھے اور ان کا حلقہ اثر شہروں تک ہی محدود تھا۔

سنہ 2011 میں ان کے خلاف شورش شروع ہونے تک بشار الاسد کے حلقے اثر کے بارے میں بحث جاری تھی۔

اس بارے میں بھی سوالات اٹھائے جاتے تھے کہ کیا بشار الاسد ضرورت سے زیادہ چند گنی چنی شخصیات اور خاندان کے افراد کے زیر اثر تھے جن میں ان کی بہن بشریٰ، ان کے مرحوم خاوند آصف شوکت اور ان کے بھائی مہر شامل تھے۔

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ بشار مزاجاً اصلاح پسند ہیں لیکن وہ اپنے والد کے حمایتیوں میں گھرے ہوئے ہیں۔

یہ بشار الاسد کی شخصت کا ایک بہت سادہ سا جائزہ ہے۔ بشار نے بہت احتیاط سے کئی مغربی صحافیوں، پالیسی سازوں اور علمی شخصیات سے ذاتی تعلقات بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ ایک ہمدرد، سوچنے سمجھنے والے اور ملنسار شخص کے طور پر نظر آئیں۔

چار سال بعد بھی یہ بحث جاری ہے۔

اسی بارے میں