ریگستان میں ’گمشدہ‘ ٹرین کی نو سال بعد قاہرہ منتقلی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس ٹرین کو اقصر شہر کے مغرب میں واقع خارجہ نخلستان میں بے یارومددگار حالت میں چھوڑ دیا گیا تھا

ذرائع ابلاغ کے مطابق نو سال سے مصری صحرا میں پھنسی ہوئی ایک ٹرین کو لاری کے ذریعے قاہرہ منتقل کیا جارہا ہے۔

یہ ٹرین دراصل سنہ 1999 میں شروع کی گئی ایک ایسی لائن کا حصہ تھی جو مصر کے مغربی صحرا کو بحیرہ احمر میں ایک بندرگاہ سے ملاتی تھی۔

یہ لائن جس کا مقصد ریت کی منتقلی تھا کو حکام دیکھ بھال میں مشکلات پیش آنے کے بعد بند کرنے پر مجبور ہوگئے تھے اور جس کے بعد اس کی پٹریوں میں سے 93 میل (150 کلومیٹر) تک کا حصہ چُرا لیا گیا۔

جس کے بعد ٹرین وہاں سے منتقل کرنے کے قابل نہیں رہی اور اسے اقصر شہر کے مغرب میں واقع خارجہ نخلستان میں بے یارومددگار حالت میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

اب آخرکار ایک نجی کمپنی کے انجینیئروں نے اِسے پُرزے پُرزے کرکے وہاں سے ٹکڑوں کی شکل میں لاری میں رکھ کر اسے ٹھکانے لگانے کا کام شروع کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ابتدائی طور پر انھیں مقامی پولیس کی جانب سے گرفتار کرلیا گیا تھا کیونکہ پولیس کو لگا کہ یہ انجینیئر ٹرین کو چُرانے کی کوشش کررہے ہیں۔