’طیارے کی تباہی کی وجوہات پر قیاس آرائیوں سے گریز کریں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

روس اور مصر کے حکام کا کہنا ہے کہ مصر کے علاقے سینا میں روسی مسافر طیارے کی تباہی کی وجوہات کے بارے میں قیاس آرائیاں نہ کی جائیں۔

روس کا کہنا ہے کہ یہ خیال کہ طیارہ بم کا نشانہ بنا صرف ’قیاس آرائی‘ ہے جبکہ مصر کا کہنا ہے کہ اس خیال کو تقویت بخشنے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں۔

روسی جہاز کی تباہی کی ممکنہ وجہ بم: امریکہ و برطانیہ

’سینا میں طیارہ دولتِ اسلامیہ نے نہیں گرایا‘

روسی طیارہ مصر میں گر کر تباہ، 224 افراد ہلاک

امریکی اور برطانوی حکام نے بدھ کو کہا تھا کہ انٹیلیجنس کے اندازوں کے مطابق روسی جہاز کو بم کے ذریعے تباہ کیا گیا۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی اس حوالے سے رسمی طور پر کسی نتیجے پر پہنچنا باقی ہے۔

اس سے پہلے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے طیارہ تباہ کرنےکا دعویٰ بھی کیا تھا۔

روسی فضائی کمپنی میٹرو جیٹ کا طیارہ سنیچر کو مصر کے تفریحی مقام شرم الشیخ سے روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے لیے پرواز کے 23 منٹ بعد گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ ایئر بس 321 طیارہ گذشتہ ہفتے کو مصر کے سیاحتی مرکز شرم الشیخ سے اڑنے کے تھوڑی دیر بعد تباہ ہو گیا۔

اس حادثے میں 224 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے بیشتر روسی تھے۔

روسی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز کی تباہی کے بارے میں جو وجوہات بتائی جا رہی ہیں وہ قیاس آرائیاں ہیں۔

بیان میں کریملن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’یہ جہاز کیسے تباہ ہوا اور کیا ہوا کے بارے میں اسی وقت کوئی حتمی بات کی جا سکتی ہے جب تحقیقات مکمل ہو جائیں گی اور ہم نے تحقیقات کے بارے میں کوئی خبر نہیں سنی۔‘

بدھ کو مصری حکام نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ جہاز کے کاک پٹ کا وائس ریکارڈر بہت بری طرح تباہ ہوا تھا۔ تاہم شہری ہوا بازی کے ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ فلائٹ کے ڈیٹا ریکارڈر سے معلومات نکال لی گئی ہیں جو کہ اب ماہرین کے جائزے کے لیے تیار ہیں۔

اس سے قبل مصر کے صدر السیسی نے بھی بی بی سی کودیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جہاز کی تباہی کی وجہ کے بارے میں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا تاہم انھوں نے جہادیوں کی جانب سے اس دعوے کو پروپیگنڈا قرار دیا ہے کہ یہ جہاز انھوں نے مار گرایا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں