فیس بک پر امریکی رہنماؤں کے خلاف اسرائیلی بیانات کا تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ران براتس نے فیس بُک پر صدر اوباما پر الزام لگایا تھا کہ وہ یہود دشمنی کے مرتکب ہیں اور امریکی وزیرِخارجہ جان کیری کے متعلق کہا تھا کہ اُن کی ’ذہنی عمر کسی 12 سالہ بچے سے زیادہ نہیں ہے‘

امریکہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو اپنے ذرائع ابلاغ کے نئے ڈائریکٹر کے صدر براک اوباما اور دیگر رہنماؤں کے متعلق تنقیدی بیانات کے بعد ان کی تقرری کا ’دوبارہ جائزہ‘ لیں گے۔

ران براتس نے فیس بُک پر صدر اوباما پر الزام لگایا تھا کہ وہ یہود دشمنی کے مرتکب ہیں اور امریکی وزیرِخارجہ جان کیری کے متعلق کہا تھا کہ اُن کی ’ذہنی عمر کسی 12 سالہ بچے سے زیادہ نہیں ہے۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے اس تبصرے کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔

وہ گذشتہ ماہ امریکہ اسرائیل پر ایک کانفرنس کے سلسلے میں واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق براتس اس دورے پر اسرائیلی وفد کے ہمراہ نہیں جائیں گے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ براتس کی فیس بُک پر کی جانے والی پوسٹیں ’جارحانہ اور پریشان کُن تھیں۔‘

انھوں نے کہا ’یقینی طور پر ہم کسی بھی ملک کے حکومتی اہلکاروں بالخصوص ہمارے قریبی اتحادی ممالک کے حکام سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ محترم امریکی حکومتی ارکان کے متعلق بات کرتے ہوئے احترام اور سچائی کا پہلو ملحوظِ خاطر رکھیں۔ ہمارے وزیرِ خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو سے آج صبح اس بارے میں بات کی ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم جب امریکہ کے دورے سے واپس جائیں گے تو وہ اپنے ذرائع ابلاغ کے نئے ڈائریکٹر کی تقرری کا ازسرِ نو جائزہ لیں گے۔‘

یہ فیس بُک پوسٹیں اُس کے فوراً بعد منظرِعام پر آئیں جب بدھ کے روز نتن یاہو نے فلسفے کے لیکچرار براتس کی اپنے چیف ترجمان کی حثیت سے تقرری کا اعلان کیا۔

مارچ میں براتس نے نتن یاہو کی جانب سے ایران کے ساتھ کیے جانے والے جوہری معاہدے کی مخالفت کے متعلق صدر اوباما کی تنقید کو ’مغربی اور آزاد خیال ممالک میں یہود دشمنی کا جدید چہرہ‘ کے طور پر بیان کیا تھا۔

انھوں نے اسرائیلی صدر رے اوون ریولن کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اتنی ’پست شخصیت‘ کے مالک ہیں کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجو بھی اُن کو یرغمال بنانا پسند نہیں کریں گے۔‘

نتن یاہو نے فوری طور پر اس تبصرے سے لاتعلقی اختیار کرلی تھی۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا: ’اسرائیلی صدر سمیت امریکہ کے صدر اور اسرائیل اور امریکہ کے دیگر عوامی نمائندوں کے متعلق جو کچھ ڈاکٹر ران بارتس نے انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا وہ میں نے ابھی پڑھا ہے۔ یہ پوسٹیں مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہیں اور کسی بھی طرح سے میری پوزیشن یا اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کی عکاس نہیں ہیں۔ ڈاکٹر براتس نے اس سلسلے میں معذرت کی ہے اور میری اسرائیل واپسی پر انھیں اس بات کی وضاحت کے لیے مجھ سے ملنے کی ہدایت کی گئی ہے۔‘

براتس کی تقرری اب تک کابینہ کی جانب سے منظوری سے مشروط ہے اور کچھ وزارا کا کہنا ہے کہ وہ اُن کی تقرری کی مخالفت کریں گے۔

اسی بارے میں