شامی قصبے پر حملے میں ’زہریلی گیس‘ استعمال ہوئی

تصویر کے کاپی رائٹ SHAAM
Image caption مہلک گیسوں کے حملوں کے نتیجے میں متاثرین کے جسمانی اعضا اور خاص طور پر جلد اور سانس لینے کا عمل متاثر ہوتا ہے

کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال اگست میں شمالی شام کے قصبے میں مسٹرڈ گیس کا استعمال ہوا۔

دولتِ اسلامیہ کے کیمیائی ہتھیار

جمعے کو کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی تنظیم، او پی سی ڈبلیو کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماریا نامی قصبے میں کیمیکل ایجنٹ کا استعمال ہوا۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر الزام ہے کہ یہ زہریلی گیس اس نے ایک باغی گروہ کے خلاف لڑتے ہوئے استعمال کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’بہت غالب حد تک امکان‘ ہے کہ ایک بچہ اسی گیس کے استعمال سے ہلاک ہوا۔

طبی امداد کے ادارے میڈیسن سانز فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ یہ حملہ 21 اگست کو ہوا جس کے بعد ان کی جانب سے ایک خاندان کے چار افراد کو طبی امداد فراہم کی۔

بتایا گیا ہے کہ ان زخمیوں کو سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی اور ان کے جسم پر پھوڑے نکل آئے تھے۔

مقامی باغیوں کا کہنا ہے کہ گیس کے شیل دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقے سے مارے گئے تھے۔

جن صحافیوں نے او پی سی ڈبلیو کی رپورٹ تک رسائی حاصل کی ان کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے نتیجے میں اس یقین کا اظہار کیا گیا ہے کہ سلفر مسٹرڈ کا نشانہ بننے سے کم ازکم دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں کسی پر الزام تو نہیں لگایا تاہم سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ کیمیائی ہتھیار

دولتِ اسلامیہ اور باغی گروہ کے درمیان جھڑپوں میں استعمال ہوئے۔

خیال رہے کہ سلفر مسٹرڈ جو عام طور پر مسٹرڈ گیس کے نام سے جانی جاتی ہے کے باعث انسان کے اندرونی اعضا سمیت جلد، آنکھیں، اور نظامِ تنفس شدید طور پر متاثر ہوتا ہے۔

اس خدشے کا اظہار بڑھتا جا رہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ شام اور عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے۔

اس سے قبل اگست میں امریکی فوج نے کہا تھا کہ شمالی عراق میں کرد فوج پر حملہ کرنے والے ایک گروہ نے مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

امریکی حکام یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ دولتِ اسلامیہ نے مسٹرڈ گیس شام سے حاصل کی تاہم شامی حکومت یہ اعلان کر چکی ہے کہ وہ ہتھیار تلف کرنے کے معاہدے کے تحت اپنے تمام ذخیروں کو تلف کر چکی ہے۔

اسی بارے میں