میانمار کے تاریخی انتخابات میں پولنگ مکمل

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پولنگ کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا

میانمار میں 25 سال بعد ہونے والے آزادانہ عام انتخابات میں پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے اور ملک بھر میں رائے دہندگان میں جوش وخروش دیکھنے میں آیا ہے۔

پولنگ کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا اور پولنگ سٹیشنوں سے لوگوں کو مسکراتے ہوئے نکلتے دیکھا گیا ہے۔

میانمار میں کئی دہائیوں تک فوج کی حکومت رہی اور اس سے قبل تمام انتخابات فوج ہی کی نگرانی میں ہوتے رہے ہیں۔

آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) سے آج ہونے والے انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کی توقع کی جا رہی ہے، اگرچہ برما کے آئین کے تحت آنگ سان سوچی ملک کی صدر نہیں بن سکتیں۔

میانمار میں انتخابی مہم کا آخری دن

جیت گئےتو میری حیثیت ’صدر سے بالا تر ہو گی‘

میانمار میں سنہ 2011 سے حکومت کرنے والی جماعت یونین سولیڈیریٹی ڈیویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) جسے فوج کی حمایت حاصل ہے ان انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔

ادھر میانمار کے موجودہ صدر تھین سین نے کہا ہے کہ حکام آج اتوار کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کا لحاظ کریں گے۔

انھوں نے جمعے کو کہا: ’میں انتخابی نتائج کے تحت قائم ہونے والی نیی حکومت کو تسلیم کر لوں گا۔‘

صدر سے بالاتر

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان انتخابات کے لیے پارلیمان کی 25 فیصد نشستیں فوج کے نمائندوں کے لیے مختص ہوں گی

ایک اندازے کے مطابق میانمار، جسے برما بھی کہا جاتا ہے، میں 30 ملین افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

میانمار کی پارلیمان 664 نشستوں پر مشتمل ہے جس میں 90 جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 6,000 سے زائد امید وار حصہ لے رہے ہیں۔

ان انتخابات کے لیے پارلیمان کی 25 فیصد نشستیں فوج کے نمائندوں کے لیے مختص ہوں گی۔

نوبیل امن انعام حاصل کرنے والی سوچی، اپنی پارٹی این ایل ڈی کے کامیاب ہونے کے باوجود بھی ملک کی صدر نہیں بن سکیں گی، کیونکہ برما کے آئین کے مطابق کوئی بھی ایسا برمی مرد یا عورت ملک کا صدر بننے کا اہل نہیں ہے جس نے کسی غیر ملکی شہری سے شادی شدہ ہو یا اس کے بچے غیر ملکی ہوں۔

آنگ سان سوچی کے دو بیٹے برطانوی شہری ہیں اور ان کے برطانوی شوہر وفات پا چکے ہیں۔

جمعرات کو ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سوچی نے کہا کہ اگر ان کی جماعت جیت گئی تو وہ ’صدر سے بالاتر‘ ہوں گی۔

سوچی کی جماعت این ایل ڈی کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے تمام انتخابی نشستوں میں سے 67 فیصد جیتنا لازمی ہوں گی۔

رنگون میں موجود بی بی سی کے نمائندے جونا فشر کا کہنا ہے کہ ابھی تک میانمار میں کوئی قابل اعتبار سروے نہیں ہوا ہے۔ اس لیے ابھی تک کسی کو نہیں معلوم کہ لوگوں کا ووٹ کس طرف جائے گا۔

میانمار میں ووٹنگ سے پہلے سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور 40,000 سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

سوچی پہلے ہی انتخابات میں دھاندلی اور بے ترتیبی کا خدشہ ظاہر کر چکی ہیں۔

سنہ 1990 کے انتخابات میں بھی این ایل ڈی نے ا کثریت حاصل کر لی تھی لیکن فوج نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسی بارے میں