’جیل کی پہرے داری مگرمچھ کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

انڈونیشیا کی انسدادِ منشیات کی ایجنسی کے سربراہ نے تجویز دی ہے کہ سزائے موت کے مجرموں کے لیے جزیرے پر جیل کی عمارت کی تعمیر کی جائے اور اس جیل کی پہرے داری مگرمچھ کریں۔

انھوں نے کہا کہ اکثر اوقات مگرمچھ انسانوں سے اچھے پہرے دار ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ اُنھیں رشوت نہیں دی جاسکتی۔

انھوں نے بتایا کہ سب سے خطرناک مگرمچھوں کی تلاش میں وہ انڈونیشیا کے جزائر کے مختلف حصوں کا دورہ کریں گے۔

انڈونیشیا کا شمار دنیا کے اُن چند ممالک میں ہوتا ہے جو منشیات کے حوالے سے سخت قوانین رکھتے ہیں اور وہاں 2013 میں سزائے موت پر عائد کی گئی چار سالہ پابندی ختم کردی گئی تھی۔

ایک مقامی ویب سائٹ ٹیمپو کے مطابق انڈونیشیا کی انسدادِ منشیات کی ایجنسی کے سربراہ کا کہنا ہے ’ہم جتنی زیادہ تعداد میں وہاں مگرمچھ رکھ سکتے ہیں رکھیں گے۔ آپ مگرمچھوں کو رشوت نہیں دے سکتے۔ آپ انھیں قید سے فرار میں مدد کرنے پر آمادہ نہیں کرسکتے۔‘

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق منصوبہ اب تک اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور نہ جیل بنانے کے مقام کا تعین کیا گیا ہے اور نہ ہی جیل کے افتتاح کی تاریخ سے متعلق کچھ طے پایا ہے۔

اسی بارے میں