کرد فورسز کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف سنجار میں کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ کی قیادت والے اتحاد نے اسی غرض سے رات میں اس علاقے میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر زبردست بمباری کی ہے

شمالی عراق میں شام کی سرحد کے پاس کرد فورسز اور یزیدی جنگجوؤں نے مشترکہ طور پر حملہ کر کے سنجار کے تقریباً پانچ گاؤں دولت اسلامیہ سے آزاد کروا لیے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق کرد فورسز نے سنجار پر پوری طرح سے قبضہ کرنے لیے تازہ حملہ کیا ہے اور امریکی فضائیہ ان کی مدد کر رہی ہے۔

سنجار پر قبضہ کرنےکا مطلب یہ ہوگا کہ دولتِ اسلامیہ کا عراق میں اہم گڑھ موصل سے شام میں رقّا کا رابطہ منقطع ہوجائے گا۔

دولت اسلامیہ نے عراق کے شمالی علاقے سنجار پر گذشتہ برس قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد اس علاقے میں آباد یزیدی برادری کے لوگ پہاڑوں پر فرار ہوگئے تھے اور داعش نے بہت سی خواتین کو غلام بنا لیا تھا۔

کرد نیشنل سکیورٹی کاؤنسل کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن فری سنجار کا مقصد دولت اسلامیہ کو کمک پہنچانے والے راستے پر کنٹرول حاصل کرنا ہے تاکہ اس علاقے میں بفر زون قائم کیا جا سکے۔

عراق میں شمالی شہر موصل دولت اسلامیہ کا اہم گڑھ ہے اور اسی طرح شام میں رقّا پر اس کا زبردست کنٹرول ہے اور ان دونوں شہروں کو جوڑنے والی شاہراہ اسی سنجار کے علاقے سے گزرتی ہے۔

امریکہ کی قیادت میں اتحاد نے اسی غرض سے رات کو اس علاقے میں دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر زبردست بمباری کی ہے۔

تقریباً 7500 کرد خصوصی فورسز کے دستے اور یزیدی جنگجو پہاڑ کی اونچائیوں سے نیچے کے طرف اترے اور اب اہم محاذ کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔

کرد فورسز اور امریکی فوجیوں کا کہنا ہے کہ اس دوران دولت اسلامیہ نے بھی علاقے میں اپنے جنگجؤں کی تعداد تقریبا 600 تک بڑھا دی ہے۔

سنجار پر قبضے کے لیے تازہ کارروائی کی نگرانی علاقے کے کرد صدر مسعود برزانی بذات خود کر رہے ہیں۔ برزانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ ہیں۔

اسی بارے میں