’دولتِ اسلامیہ کا جہادی جان امریکی حملے میں ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رطانیہ کی سکیورٹی ایجنسیوں نے محمد اموازی پر ماضی میں نظر رکھی ہوئی تھی

امریکی فوج ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ شام میں امریکہ کے ایک فضائی حملے میں جہادی جان‘ کے نام سے مشہور دولتِ اسلامیہ کا برطانوی شدت پسند محمد اموازی ہلاک ہو گیا ہے۔

جمعے کو جاری ہونے والے بیان میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے پریس سیکریٹری پیٹر کک نے بتایا کہ جہادی جان کی گاڑی کو شام کے علاقے رقّہ میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

’جہادی جان کو زندہ گرفتار کیا جائے

’خودکشی کا خیال بھی آیا‘

تاہم امریکی حکام کے مطابق جمعرات کو کی جانے والی اس کارروائی کے نتائج کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اور جب بھی مناسب ہوا اضافی معلومات سے آگاہ کیا جائے گا۔

اموازی ان ویڈیوز میں موجود تھے جن میں امریکی صحافی سٹیون سوتلوف اور جیمز فولی، برطانیہ امدادی کارکن ڈیوڈ ہینز اور ایلن ہیننگ، امریکی امدادی کارکن عبدالرحمٰن کیسگ اور بہت سے دیگر مغویوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

اس خیال کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ جس گاڑی کو رقّہ کے قریب امریکی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا اس میں جہادی جان کے علاوہ ایک اور شخص بھی موجود تھا۔

ایک امریکی عہدے دار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایک عرصے سے اموازی کی کھوج لگائی جا رہی تھی۔

خبر رساں ادارے اے پی نے ایک امریکی عہدے دار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں ڈرون طیارے کا استعمال ہوا ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اس بارے میں آج ایک بیان بھی جاری کریں گے۔

وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق انھوں نے اس سے قبل بھی کہا تھا کہ ان بہیمانہ قاتلوں کا کھوج لگانا اولین ترجیح ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز میں بی بی سی کو یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ لگ بھگ 25 سالہ کویتی نژاد برطانوی شخص کا نام محمد اموازی ہے اور وہ مغربی لندن سے تعلق رکھتا ہے اور ان کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ہے۔

یہ بھی سامنے آیا تھا کہ برطانیہ کی سکیورٹی ایجنسیوں نے محمد اموازی پر ماضی میں نظر رکھی ہوئی تھی مگر آپریشنل وجوہات کی وجہ سے ان کی شناخت ظاہر نہیں کی تھی۔

مغویوں کے ہمراہ ویڈیوز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تمام ویڈیوز میں جہادی جان سیاہ عبا پہنے دکھائی دیے جبکہ ان کے چہرے پر سیاہ نقاب تھا اور صرف ان کی ناک اور آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں

محمد اموازی کو پہلی بار گذشتہ برس اگست میں دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری کی گئی اس ویڈیو میں دیکھا گیا تھا جس میں امریکی صحافی جیمز فولی کا سر قلم کرتے دکھایا گیا تھا۔ جس کے بعد وہ متعدد افراد کی ہلاکتوں کی ویڈیوز میں نظر آئے۔

اسی بارے میں