میانمار کے صدر کا نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا عزم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption میانمار کے صدر تھین سین اور فوجی سربراہ مِن آنگ ہلیانگ نے انتخابات میں سوچی کو اُن کی جماعت کی کارکردگی پر مبارکباد دی ہے

میانمار کے فوجی سربراہ نے اتوار کو تاریخی انتخابات میں بننے والی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا عہد کیا ہے۔

من آنگ ہلیانگ کا کہنا تھا کہ فوج ’انتخابات کے بعد نئی حکومت کے ساتھ تعاون میں جو بہتر ہوا وہ کرے گی۔‘

آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) اعلان کردہ نشستوں میں تقریباً 80 نشستیں حاصل کر کے سبقت حاصل کر لی ہے۔

میانمار کے صدر کی آنگ سوچی کی جماعت کو مبارکباد

انتخابات ’شفاف تو تھے لیکن آزاد نہیں‘: سوچی

لیکن پارلیمان کی ایک چوتھائی نشستیں فوج کے لیے مختص ہیں جس کا مطلب ہے کہ فوج بہت زیادہ اثر انداز ہو گی۔

گذشہ اتوار کو ہونے والے انتخابات 25 سالوں کے دوران میانمار میں ہونے والے پہلے عام انتخابات تھے۔

سنہ 1990 میں این ایل ڈی نے انتخابات میں فیصلہ کُن کامیابی حاصل کی تھی مگر ان انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دے کر آنگ سوچی کو طویل عرصے کے لیے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

میانمار کے صدر تھین سین اور فوجی سربراہ مِن آنگ ہلیانگ نے انتخابات میں سوچی کو اُن کی جماعت کی کارکردگی پر مبارکباد دی ہے۔ تاہم ان کی جانب سے اب تک باضابطہ طور پر شکست تسلیم نہیں کی گئی۔

دونوں رہنماؤں نے حتمی نتائج کے اعلان کے بعد سوچی کے ساتھ قومی مفاہمت پر بات چیت کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

Image caption سنہ 1990 میں این ایل ڈی نے انتخابات میں فیصلہ کُن کامیابی حاصل کی تھی مگر ان انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دے کر آنگ سوچی کو طویل عرصے کے لیے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا

جمعرات کی صبح تک تقریباً 47 فیصد سے زائد نشستوں کے نتائج آ چکے ہیں۔

میانمار میں فوج کی حمایت یافتہ جماعت یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) کے حصے میں اب تک صرف پانچ فیصد نشستیں آئی ہیں۔

پانچ سال قبل ہونے والے انتخابات، جن پر کافی تنفید بھی دیکھنے میں آئی تھی، میں یو ایس ڈی پی نے کامیابی حاصل کی تھی۔

حکومت کے ترجمان یو یی ہتوت کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے میانمار کے صدر تھین سین کو جمعرات کو فون کر کے ’تاریخی آزادانہ اور منصفانہ عام انتخابات‘ کے انعقاد پر اُنھیں مبارکباد دی ہے۔

یو یی نے بی بی سی کو بتایا: ’اوباما نے انتخابات میں کامیابی پر این ایل ڈی کو بھی مبارکباد دی۔‘

صدر تھین سین نے بھی اِس عہد کا اظہار کیا ہے کہ حکومت ’عوام کے فیصلے اور پسند کا احترام کرے گی اور اقتدار کی منتقلی طے کردہ شیڈول کے مطابق ہوگی۔

میانمار میں اتوار کو ہونے والے انتخابات میں تقریباً تین کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے اور اِس میں ٹرن آؤٹ تقریباً 80 فیصد رہا ۔

تاہم لاکھوں افراد جن میں مسلم روہنجیا اقلیت بھی شامل ہیں کو میانمار کا شہری تک تسلیم نہیں کیا گیا ہے اُنھیں ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا۔

پارلیمان کی 664 نشستوں میں سے ایک چوتھائی فوج کے لیے مختص ہیں جن پر انتخاب نہیں ہوئے اور 491 نشستیں باقی بچی ہیں۔

این ایل ڈی کو اکثریت حاصل کرنے اور صدر کو منتخب کرانے کے لیے اِن نشستوں میں کم سے کم دو تہائی اکثریت درکار ہے۔

اسی بارے میں