تارکین وطن کی آمد: سویڈن کی سرحدوں پر عارضی پابندیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپ کو توقع ہے کہ اس فنڈ کے ذریعے افریقی ممالک سے آنے والے تارکین وطن کی تعداد کو محدود کیا جا سکے گا

سویڈن نے اعلان کیا ہے کہ وہ تارکین وطن کی آمد پر قابو پانے کے لیے سرحدوں پر عارضی پابندیاں عائد کر رہا ہے۔

سویڈن کے وزیر داخلہ آندرش اوگمین نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب پولیس نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے تارکین وطن سے ملک کی عمومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ان پابندیوں کا اطلاق جمعرات کو سویڈن کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے سے ہو رہا ہے۔

تارکینِ وطن کی کشتی ڈوب گئی

سلووینیا کا سرحدی رکاوٹیں کھڑی کرنے کا اعلان

جمعرات کو مالٹا میں یورپی یونین اور افریقی رہنماؤں کا تارکینِ وطن کے بحران پر بات چیت کا دوسرا روز ہے۔ توقع ہے کہ اس میں دونوں فریق افریقہ کے لیے ایک ارب 80 کروڑ یورو مالیت کے ہنگامی ٹرسٹ فنڈ کے معاہدے پر دستخط کریں گے۔

یورپ کو توقع ہے کہ اس فنڈ کے ذریعے افریقی ممالک سے آنے والے تارکین وطن کی تعداد کو محدود کیا جا سکے گا اور پناہ کے لیے نااہل افراد کو واپس ان کے ملکوں میں بھیجنے کا عمل تیز کیا جا سکے گا۔

ترکی اور یونان کے درمیان سمندر میں کشتی ڈوبنے کے اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں سات بچے بھی شامل تھے۔ ساحلی محافظوں کا کہنا ہے کہ 27 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔

اس سال سویڈن میں تقریباً دو لاکھ تارکین وطن کے آنے کی توقع ہے۔ جو کسی بھی یورپی ملک میں آنے والی تارکین کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

سویڈن کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ان کی بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی حکومت نے یہ فیصلہ ’سلامتی اور استحکام کے لیے کیا ہے، نہ کہ پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو روکنے کے لیے۔ ہمارے اس اقدام سے پناہ گزینوں کی آمد کے عمل کو بہتر بنایا جاسکے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یورپی یونین کے دیگر ممالک کے لیے ہمارا یہ اشارہ کافی ہے۔ اس وقت تارکین وطن کے بحران کی ذمہ داری سب سے زیادہ سویڈن نے ہی اٹھائی ہے۔ اگر ہمیں مل کر اس بحران سے نمٹنا ہے تو دیگر ممالک کو بھی ذمہ داری لینی ہو گی۔‘

سویڈن کے امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ عارضی سرحدی کنٹرول سے ان کو آنے والے مہاجرین کا اندراج کرنے میں مدد ملے گی جس سے ملک میں پناہ گزینوں کے غیر قانونی قیام کو روکا جا سکے گا۔

سویڈش مائیگریشن ایجنسی کے ترجمان فریڈرک بینگسن کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک سرحد پر موجود لوگوں کو بس میں بٹھا کراپنے دفاتر تک لا رہے تھے لیکن ’وہاں پہنچنے کے بعد بہت سے مہاجرین اپنا اندراج کرائے بغیر ہی غائب ہو جاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں