37 سال پرانی ڈکیتی اور رہائی

Image caption وکلا نے ایسارو کے خلاف مقدمہ تیار کرنے کے لیے کئی برس کا وقت لگایا اور اس معاملے میں صرف انھی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف گواہی کے لیے ایک دوسرے مجرم کو ہی پیش کیا گيا تھا

نیو یارک میں ایک عدالت نے سنہ 1978 میں ایک ایئر پورٹ میں ہونے والی اس وقت کی مشہور نقب زنی کے مبینہ منصوبہ ساز اور جرائم کی دنیا کے معروف سرغنہ کو بےگناہ قرار دیا ہے۔

فیصلے کے بعد 80 سالہ ونسینٹ ایسارو نے بروکلین میں عدالت کے باہر فضا میں اپنی باہیں پھیلائیں اور زور سے کہا ’ آزاد۔‘

تین ہفتے تک چلنے والی عدالتی کارروائی کے بعد انھیں قتل، استحصال بالجبر اور دیگر جرائم کے الزامات سے بری کر دیا گیا۔

گذشتہ برس جب انھیں گرفتار کیا گیا تھا تو اس بات کی امید جاگی تھی کہ اب تک نہ حل ہونے والا اتنا مشہور جرم کا یہ واقعہ اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔

نیو یارک کے جان ایف کینیڈی ایئر پورٹ پر ہونے والی اس چوری میں لفتھانزا ایئر لائن کی کارگو کی عمارت سے نقاب پوش افراد نے 50 لاکھ ڈالر نقد اور تقریباً دس لاکھ ڈالر کے زیورات لوٹ لیے تھے۔ اس زمانے میں یہ لوٹ کا بہت بڑا واقعہ تھا۔

Image caption اسی نقب زنی کے واقعے پر مبنی فلم ’گڈ فیلاز‘ بنائی گئی تھی جو بہت مقبول ہوئی اور اسے ایک آسکر ایوارڈ بھی ملا تھا

اسی واقعے پر مبنی فلم ’گڈ فیلاز‘ بنائی گئی تھی جو بہت مقبول ہوئی اور اسے ایک آسکر ایوارڈ بھی ملا تھا۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ ونسیٹ ایسارو اپنے ایک دوسرے سرغنہ ساتھی جمی بروک کے ساتھ ایئر پورٹ سے ایک میل کے فاصلے پر کار میں بیٹھے انتظار کر رہے تھے۔

وکلا نے ایسارو کے خلاف مقدمہ تیار کرنے کے لیے کئی برس کا وقت لگایا اور اس معاملے میں صرف انھی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف گواہی کے لیے ایک دوسرے مجرم کو ہی پیش کیا گيا تھا۔

اسی عدالت میں جان گوٹی جیسے بڑے امریکی گینگسٹرز کو سزا سنائی جا چکی ہے لیکن ناکافی ثبوت کے سبب ونسینٹ بری ہو گئے۔

عدالت کے باہر منتظر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’مجھے تو صدمہ ہوا، حقیقت میں صدمہ ہوا۔‘

سرکار کی جانب ونسیٹ کے خلاف دائر کردہ مقدمہ انھی کے ایک چچازاد بھائی گیسپیئر ویلینٹی کی گواہی پر منحصر تھا لیکن دفاعی وکیل نے اسے ’مکمل جھوٹ قرار دے کر‘ غلط ثابت کر دیا۔

اسی بارے میں