’ہر طرف سائرن بج رہے تھے اور افراتفری تھی‘

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جمعے کی شب چھ مختلف مقامات پر ہونے والے دہشت گرد حملوں میں کم سے کم 128 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں ہوٹل، فٹ بال سٹیڈیم اور ایک کانسرٹ ہال کو نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین نے خبر رساں اداروں کو آنکھوں دیکھا حال بتایا:

’صدما پہنچا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Other

فرانکوئس سرجنٹ ان ریستورانوں میں سے ایک جنھیں نشانہ بنایا گیا کے قریب رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کے حملے کے بعد وہ ان کے ہمسائے ان حملوں کی وجہ سے ششدر رہ گئے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’ہر کوئی بے یقینی کی کیفیت میں تھا۔ میرے نزدیک کوئی بھی اس حملے سے متاثر نہیں ہوا تھا تاہم وہ گلیاں جہاں میں ہر روز گذرتا تھا آج صبح ویران تھیں۔‘

’فائرنگ کرتا رہا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

فرانس کے ایک بار میں جمعے کی شام کو ہونے والے حملے میں ایک شخص حملہ آوروں کے سامنے آ گیا۔ اس شخص نے فرانس کے ٹی وی کو بتایا ’ہم نے دھماکوں کی آوازیں سنیں اور پہلے یہ سمجھا کہ شاید بابر آتش بازی ہو رہی ہے۔ ہم جیسے ہی مڑے تو میں نے دو نوجوان آدمیوں کو دیکھا جن کی عمریں 25 سال سے زائد نہیں تھیں اور ان کے پاس کلاشنکوف تھیں۔ حملہ آوروں نے ہمیں لیٹ جانے کو کہا تاہم وہ فائرنگ کرتے رہے۔‘

’فون نے زندگی بچا لی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Le Monde

سلویسٹر دھماکے کے وقت سٹیڈیم میں موجود تھے جہاں فرانس اور جرمنی کے درمیان دوستانہ فٹبال میچ جاری تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے موبائل نے ان کی جان بچا لی کیونکہ دھماکہ کے بعد جب اس کا ملبہ ان پر گرا تو وہ فون سن رہے تھے۔

خبر رساں ادارے روئیٹرز نے سلویسٹر کے حوالے سے بتایا ’ دھماکے کے بعد ہر چیز ٹکڑوں میں تقسیم ہو تھی اور مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ہر چیز ارد گرد اڑ رہی ہے۔ میرے موبائل نے میری زندگی بچا لی اگر میرا فون نہ ہوتا تو میرے سر کے پرخچے اڑ جاتے۔‘

’خوفزدہ صورتِ حال‘

پیرس میں رہائش پذیر برطانیہ سے تعلق رکھنے والے مزاحیہ فنکار پال ٹیلر کلب میں اپنی پرفارمنس دے جا رہے تھے جب ایک ریستوان پر حملہ ہوا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’دھماکے کے بعد لوگ صدمے کی حالت میں جائے وقوع کی جانب بھاگ رہے تھے لیکن کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت کوئی سرکاری اطلاعات نہیں تھیں، میں سٹیج پر گیا لیکن اس وقت مسلح پولیس نے لوگوں کو وہاں سے نکالنا شروع کر دیا۔‘

پال کے مطابق ’یہ بہت خوفزدہ صورتِ حال تھی۔ وہاں ہر جگہ مسلح پولیس تھی، سائرن بج رہے تھے اور افراتفری تھی۔‘

’ہر طرف لاشیں تھیں‘

یورپ ون ریڈیو کے صحافی جولین پیریز بٹاکلان ہال میں موجود تھے۔ انھوں نے ریڈیو کی ویب سائٹ پر اپنی رپورٹ پوسٹ کی۔ ان کے مطابق ’متعدد مسلح افراد کانسٹرٹ میں آ گئے۔ ان میں دو یا تین افراد جنھوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے، ان کے پاس کلاشنکوف تھی نے ہجوم پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔‘

جولین کے مطابق ’مسلح افراد نے 10 سے 15 منٹ تک فائرنگ کی۔ یہ بہت پر تشدد صورتِ حال تھی۔ حملہ آوروں کے پاس اتنا وقت تھا کہ انھوں نے کم سے کم تین بار گولیاں بھریں۔ حملہ آور نوجوان تھے۔

’ہجوم پر فائرنگ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

خبر رساں ادارے فراسن اِنفو کے مطابق بٹاکلان کانسرٹ ہال سے باہر آنے والے ایک عینی شاید کا کہنا تھا ’حملہ آوروں نے آٹو میٹک ہتھیاروں سے ہجوم پر فائرنگ کی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے لیکن وہاں ہر طرف خون ہی خون تھا۔‘

’ کافی خوفناک‘

بین گرانٹ اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک بار میں تھے جب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے چھ سے سات لاشیں زمین پر پڑی دیکھیں۔ ان کے بقول گولیاں گاڑیوں سے چلائی گئیں۔

وہاں بہت سے لوگ مر چکے تھے۔ سچ کہوں تو یہ بہت دہشت ناک تھا۔ میں بار کے آخری حصے میں تھا۔ میں کچھ دیکھ نہیں پایا۔‘

’میں نے گولیاں چلنے کی آوازیں سنی۔ لوگ زمین پر گر گئے۔ ہم نے خود کو بچانے کے لیے ایک میز اپنے اوپر کر لی۔‘

’ہم بار میں ہی پھنس گئے کیونکہ ہمارے سامنے لاشیں پڑی تھیں۔‘

’ہم نے دو بڑے دھماکوں کی آواز سنی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لیبریشن نامی اخبار نے ونسینٹ نامی ایک صحافی کے حوالے سے بتایا کہ وہ سٹیڈ ڈی فرانس میں تھے جہاں جرمنی اور فرانس کے درمیان فٹ بال میچ جاری تھا۔

’سب لوگ میدان میں چلے گئے۔ سب لوگ پریشان تھے کوئی نہیں جانتا تھا کہ باہر کیا ہوا ہے۔ میچ کے پہلے ہاف کے دوران باہر سے دو بڑے دھماکوں کی آواز آئی۔ ان کے بعد تیسرا قدرے ہلکا دھماکہ ہوا۔ تھوڑی دیر بعد میچ کے ہاف تک ایک ہیلی کاپٹر وہاں آ گیا۔‘

’میچ ایسے جاری رہا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو لیکن ہم ٹوئٹر پر سب کچھ دیکھتے رہے خاص طور پر جب صدر اولاند کو وہاں سے نکالا گیا۔ ہم میں سے کسی نے بھی انھیں جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں نے میچ کا دوسرا ہاف نہیں دیکھا۔ وہاں اعلان کیا گیا کہ تماش بین جنوبی، شمالی اور مغربی راستوں سے باہر چلے جائیں۔ لیکن پانچ منٹ بعد ہی سب لوگ واپس آگئے۔‘

’آتش بازی کی آواز‘

کارڈف سے تعلق رکھنے والے جاناتھن ہِل جو پیرس میں کام کرتے ہیں انھوں نہ بتایاکہ ایک شخص لوگوں کو بٹاکلان ہال کی جانب بھیج رہا تھا۔

’میں بٹاکلان سے 70 گز کے فاصلے پر اے ٹی ایم سے کیش نکال رہا تھا۔ پیسے نکالتے ہوئے میں نے تین گولیوں کی آواز سنی۔ پہلے تو مجھے لگا یہ فائرنگ نہیں شاید کہیں آتش بازی ہوئی۔‘

’چند لمحوں بعد میں نے ایک ساڑھے چھ فٹ کے بھاری بھرکم آدمی کو دیکھا، وہ سڑک کے بیچوں بیچ کھڑا چلا آ رہا تھا۔ وہ لوگوں سے ’ایلز ایلز ‘ کہہ رہا تھا۔ وہ لوگوں سے کہہ رہا تھا کہ کیفیز سے نکل کر اندر جائیں۔ اسی اثنا میں گولی چلی اور بٹاکلان کے باہر کوئی شخص زمین پر گر گیا۔‘

کمبوڈین ریسٹورنٹ پر حملہ

پیرر مونٹفورٹ حملے کا نشانہ بننے والے ایک دوسرے ریستوران کے قریب ہی رہتے ہیں۔ انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے 30 سیکنڈ تک مسلسل فائرنگ کی آواز سنی۔ ہم نے سوچا آتش بازی ہو رہی ہے۔‘

ریسٹوران میں موجود ایک دوسرے عینی شاہد نے بتایا سب لوگ فرش پر گر گئے۔ ایک آدمی کے ہاتھوں میں ایک نوجوان لڑکی تھی جو مردہ لگ رہی تھی۔‘

’جنگ ہو رہی تھی‘

ایک عینی شاہد جس کا سامنا ایک حملہ آور سے ہوا تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب رہا۔ ’کانسرٹ میں اونچی آواز میں موسیقی چل رہی تھی۔ میں نے گولیوں کی آواز سنی۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو دروازے میں کسی کا سایہ دکھائی دیا۔ اس نے میری طرف فائرنگ کر دی۔‘ ’لوگوں نے خود کو زمین پر گرانا شروع کر دیا۔ مجھے لگا میرے سامنے موجود لڑکا مر چکا تھا۔‘

’میں بھاگا اور رکاوٹوں کو پھلانگتا ہوا سٹیج کے قریب لوگوں کی پہلی قطار میں پہنچ گیا۔ اس کے بعد میں کمرے کے مخالف سمت میں موجود ہنگامی اخراج کے راستے سے باہر آ گیا۔‘

’ہم پہلی منزل پر ایک کیفے میں چھپ گئے۔ جب ہم نے لوگوں کو بتایا کہ وہاں کیا ہوا ہے تو لوگوں نے فوراً یقین کر لیا۔ یہاں جنگ ہو رہی ہے ہم پر کچھ دیر پہلے گولیاں چلائی گئی ہیں۔‘

’ہمیں صرف سائرن کی آواز آ رہی ہے ہم یہاں سے نکالے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں