’دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے چیلینج ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیرس میں جمعے کو ہونے والے حملوں میں 127 افراد ہلاک اور تین سو زخمی ہوئے

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پرتشدد حملوں میں ہلاکتوں پر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی جانب سے بھرپور مذمت کی جا رہی ہے۔

روس کے صدر ویلادی میر پوتن نے فرانس کے صدر کے نام اپنے تعزیتی ٹیلی گرام میں کہا ہے کہ انھیں پیرس میں تواتر سے ہونے والی حملوں پر گہرا رنج ہے۔

پیرس پر خوف کےگہرے سائے

پیرس حملے: لائیو اپ ڈیٹس

’ہر جگہ سائرن بج رہے تھے اور افراتفری تھی‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ سانحہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ دہشت گردی پوری انسانیت کے لیے چیلینج ہے اور اس برائی کے خلاف لڑنے کے لیے متحد کوششوں کی ضرورت ہے۔

روسی صدر نے اس امید کا اظہار کیا کہ پیرس حملوں کی معاونت کرنے والوں اور ان میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگی۔

انھوں نے فرانس کو تحقیقات میں مدد کرنے کی پیش کش بھی کی۔

ادھر شام کے سرکاری میڈیا پر صدر بشار الاسد کا بیان بھی جاری کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پیرس بھی اسی خونخوار دہشت گردی کا شکار ہے جس سے گذشتہ پانچ سال سے شام کے لوگ نمٹ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے فرانس میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں ’قابل نفرت دہشت گرد حملے‘ قرار دیا ہے۔

سیکریٹری جنرل کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں وہ برابر کے شریک ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں وہ فرانس کی عوام کے ساتھ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پیرس میں پر تشدد کارروائیوں کے بعد امریکی صدر براک اوباما نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اس مشکل وقت میں امریکہ فرانس کی عوام کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے امریکہ فرانس کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ بھی دہشت گردی سے متاثر ہوا اور ’ہم صدر اولاند کے تعاون سے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گے۔‘

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ پیرس کے حملوں سے انھیں دھچکا لگا ہے اور برطانیہ فرانس کی ہر ممکن مدد کو تیار ہے۔

جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل نے بھی پیرس کے حملوں کی مذمت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ حملہ آور’ آزادی سے نفرت ‘ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے ہم سب پر حملہ کیا ہے۔

جرمن حکومت نے فرانس کو تحقیقات میں مدد کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

روس کی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیرس میں ہونے والے حملوں کو ’غیر انسانی قتل قرار دیا ہے‘ جبکہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس وقت فرانس کے ساتھ ہیں۔

انھوں نے کہاکہ کہ دہشت گردی کبھی بھی جمہوریت کو ختم نہیں کر سکتی۔

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے کہا ہے کہ ’پیرس میں ہونے والا حملہ عام انسان کے وقار پر حملہ ہے‘ اور یہ کہ ’امریکہ فرانس کے لوگوں اور اس کی متنوع کلچر پر مبنی جمہوریت کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بی بی سی نیوز نائٹ کے مارک اربن نے ٹویٹ کیا ہے کہ دولت اسلامیہ کے حامیان پیرس میں ہونے والے حملے پر مسرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ٹوئٹر پر پاکستانی وزیراعظم اور صدر کی جانب سے پیرس میں ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے اور متاثرہ خاندانوں، فرانسیسی حکومت اور عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’پیرس سے موصول ہونے والی اطلاعات درد ناک اور افسوس ناک ہیں۔ ہلاک شدگان کے ساتھ ہماری ہمدردی ہے اور ایسے حالات میں ہم پیرس کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

کینیڈا کے نو منتخب وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ان تاریک لمحات میں کینیڈا فرانس کی ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں