’پیرس ہی نہیں انسانیت کے لیے دعا کریں‘

سوشل میڈیا کے دور میں ایک صحافی کے لیے صبح صبح اٹھ کر ٹوئٹر پر ایک نظر ڈالنا ایک عادت ہوتی ہے مگر آج کا دن ان چند دنوں میں سے تھا جب آپ پہلی ٹویٹ پڑھتے ہی چونک جائیں اور سوچیں کہ کاش یہ صبح نہ ہوتی۔ جوں جوں مزید ٹویٹس پر نظر پڑتی گئی توں توں ان حملوں کی ہولناکی عیاں ہوتی گئی۔

پیرس حملےدولتِ اسلامیہ کا ’جنگی اقدام‘ ہیں: صدر اولاند

پیرس میں حملے انسانی وقار پر حملہ ہیں: عالمی مذمت

کروڑوں ٹویٹس میں لوگ افسوس، دکھ اور خوف کے جذبات کا اظہار کرتے نظر آئے اور وہی پرانی بحث دوبارہ سے سرگرم ہے کہ کیا اسلام اس کا ذمہ دار ہے یا مسلمان اس کے پیچھے ہیں اور کیوں اور کیسے سارے مسلمان اس کے ذمے دار نہیں جیسے تمام عیسائی ناروے کے حملوں کے ذمے دار نہیں یا امریکہ میں مسلمانوں کے قتل کے ذمہ دار نہیں۔

سٹورٹ پِن فولڈ نے لکھا ’میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ اسلام پیرس حملوں کی وجہ نہیں ہے۔ جب آنرژ بریویک نے ناروے میں 70 بچوں اور جوانوں کو ہلاک اور 319 کو زخمی کیا تو ہم نے تمام مسیحیوں کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا نہ ہی فوری طور پر یہ خیال آیا کہ سفید فام مسیحی مسلمانوں کومارنے کو آ رہے ہیں۔ جب آئرش رپبلکن آرمی نے برطانیہ میں حملے کیے تو ہم نے یہ گردانا کہ تمام آئرش کیتھولک ہمیں مارنے آ رہے ہیں۔ تو یاد رکھیں کہ اتنے ہی مسلمان ہیں جو خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی تنظیم سے نفرت کرتے ہیں اور اس سے بچنے کے لیے شام اور عراق سے فرار ہو رہے ہیں۔‘

پیرس حملے پاکستان سمیت دنیا بھر میں صفِ اول کا ٹرینڈ ہے۔

کرونا ایزرا پاریکھ نے ایک اور نقطے کی جانب اشارہ کیا کہ میں آج صبح پیرس کے حملوں کی وجہ سے بہت تکلیف میں تھی مگر مجھے اس سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ انھیں اتنی اہمیت دی گئی۔ پیرس بےشک ایک اہم جگہ ہے مگر بیروت میں چند دن قبل ہونے والی دھماکوں کو اتنی اہمیت نہیں ملی، بغداد میں ہونے والے حملوں کو بالکل کسی نے اہمیت نہیں دی۔ آپ اگر تارکینِ وطن کے بحران پر نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ یہ سب بھی انسانیت کے لیے اتنا ہی تکلیف دہ ہے جتنا پیرس حملے ہیں۔ تو یہ صرف پیرس کے لیے ہی نہیں دنیا سلامتی کے لیے دعاؤں کا وقت ہے۔‘

ارسلان قمر نے ٹویٹ کی ’یہ مذہب کے بارے میں نہیں ہے، یہ انسانیت کے جذبوں سے عاری لوگوں کے بارے میں ہے۔ ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں بہت سے انسان انسانیت کے جذبے سے عاری ہوتے جا رہے ہیں۔‘

چونکہ فرانسیسی صدر نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے تو اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مرتضیٰ حسین نے لکھا ’دولتِ اسلامیہ نے مسلمانوں اور مغرب کے درمیان موجود رواداری کے دائرے کو تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا تو یہ حملے اسی ہدف کے حصول کا ایک حصہ ہیں۔‘

اس حوالے سے وکی لیکس نے ٹویٹ میں لکھا ’دولتِ اسلامیہ کی حکمتِ عملی فرانس میں یہ ہے کہ وہ فرانسیسی حکومت کو مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر مجبور کرے‘ جس پر ایک تبصرہ کرنے والے ایڈریو ہبرڈ نے لکھا ’تاکہ مسلمان دولتِ اسلامیہ کی جانب مائل ہوں۔‘

ان حملوں کے نتیجے میں نادر عتاشی کے خیال ہے ’یورپ کی دائیں بازو کی جماعتوں کے عمومی موقف اور تارکینِ وطن کے خلاف موقف کی توثیق ہو گی۔ مگر افسوس کا مقام ہو گا اگر اس کے نتیجے میں تارکینِ وطن پر حملے شروع ہوتے ہیں جو خود اسی قسم کی سفاکی سے فرار ہو کر یورپ پہنچے ہیں۔‘

اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈین ہولوے نے لکھا جن کی ٹویٹ کو ہزاروں افراد نے شیئر کیا ’جو لوگ تارکینِ وطن کو ان حملوں کا الزام دے رہے ہیں کیا وہ یہ بات سمجھتے ہیں کہ یہ وہ سفاک لوگ ہیں جن سے یہ لوگ فرار ہو کر یہاں پہنچ رہے ہیں۔‘

اور اس سب کے درمیان پیرس سے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز دل ہلا دینے والی ہیں مگر اس میں بھی جعلسازی اور جھوٹ کی آمیزش نظر آتی ہے جو کہ بہت خطرناک ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی کسی بھی ویڈیو یا تصویر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی اصلیت ضرور پرکھی جائے۔

اسی بارے میں