فرانس میں پرتشدد حملوں پر نظر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ ہے اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے

فرانس کی تاریخ میں گذشتہ روز ہونے والے حملوں کو دہشت گردی کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا جارہا ہے۔ان حملوں کی ذمہ داری نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ کل آٹھ حملہ آوروں نے لوگوں کو نشانہ بنایا اور ان تمام کو پولیس نے کارروائی میں ہلاک کر دیا ہے۔

پیرس حملے لائیو اپ ڈیٹ

لبرل یورپ اور سخت گیر اسلام

اگر حال کی بات کی جائے تو ان حملوں کو فرانس کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں سے منسلک کیا جاسکتا ہے بالکل ویسے ہی جس طرح ترکی کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف پالیسی پر اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فرانس کےصدر نے بھی اپنے سرکاری بیان میں سنیچر کو یہی بتایا کہ حملہ آوروں کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ہی ہے جبکہ بعد ازاں دولتِ اسلامیہ نے بھی ان حملوں کی ذمہ داری ایک تفصیلی بیان میں قبول کر لی۔

دو ماہ قبل ہی 7 ستمبر کو فرانس کے صدر فرانسو اولاند نے اپنی فوج کودولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے تیاری کا حکم دیا اور اس کے 20 دن بعد ہی فرانس نے شام میں اپنا پہلی فضائی کارروائی کے آغاز کی تصدیق کی۔

لیکن فرانس اس سے قبل بھی دہشت گردی کا شکار ہوتا رہا ہے۔ دور کی بات نہیں رواں سال کے آغاز میں ہی اسی شہر پیرس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔

Image caption گذشتہ شب پیرس کے چھ مقامات کو آٹھ حملہ آوروں نے نشانہ بنایا: حکام

رواں سال کے آغاز میں ہی سات جنوری کو پیرس کے شمالی علاقے میں دو مختلف مقامات پر حملے ہوئے۔ بڑا حملہ فرانسیسی میگزین چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملہ کیا گیا تھا جس میں12 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ جبکہ کوشر مارکیٹ میں ہونے والے حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔

کچھ دن بعد ان حملوں کی ذمہ داری یمن میں القاعدہ کے ایک رہنما نے تسلیم کی تھی۔

چارلی ایبڈو پیغمبرِ اسلام کے خاکے شائع کرنے کے باعث مسلم دنیا میں شدید تنقید کا سامنا تھا۔

ان حملوں کے تناظر میں فرانس کی حکومت نے ملک میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں ملک میں آئندہ تین سالوں میں 2500 ایٹلیجنس اہلکاروں کو بھرتی کرنے کا اعلان بھی کیا گیا جبکہ پہلے سے موجود سکیورٹی کو بھی بڑھایا گیا۔

22 اگست کو بھی ایمسٹرڈم میں ایک مسافر ٹرین پر مسلح شخص نے حملے کی کوشش کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چارلی ایبڈو کو پیغمبر اسلام کے خلاف خاکے شائع کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا

فرانس کی جانب سے مالی میں جنوری 2013 میں الشباب نامی تنظیم کے خلاف کارروائی میں مالی کی فوج کی مدد کی گئ۔

مارچ 2012 میں فرانسیسی نژاد مسلمان محمد میرا نے سات افراد کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ ان افراد میں تین بچے بھی شامل تھے۔

اسی دوران فرانس نے انتھاپسند مسلمان مبلغین کو اپنے ملک میں داخلے سے روک دیا اور اس کی ابتدا قطر میں مقیم مصری نژاد مبلغ یوسف القراداوی پر پابندی عائد کرنے سے ہوا۔

اکتوبر سنہ 2012 میں سٹراس برگ میں ایک یہودی شہری کی دکان پر حملہ کیا گیا جس کے بعد انسداد دہشت گردی پولیس نے ملک بھر میں چھاپے مار کر 11 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے سنہ 2014 کے وسط میں اعلان کیا کہ وہ طے شدہ وقت سے قبل ہی افغانستان میں تعینات اپنی فوجوں کو ملک واپس بلوا رہے ہیں۔

Image caption فرانس کی تاریخ میں ٹرینوں پر بھی متعدد حملے ہوئے

90 کی دہائی کے دوران بھی فرانس میں پرتشدد واقعات پیش آئے۔ یہ وہ وقت تھا جب فرانس نے الجیریا کی فوجی حکومت کا ساتھ دیا۔ تاہم وہاں کی مسلح اسلامی گروہ جی آئی اے نے پرتشدد کارروائیوں کا آغاز کیا۔

1994 میں اس تنظیم نے الجیریا کا طیارہ ہائی جیک کیا جسے وہ فرانس کے آئفل ٹاور سے ٹکرانا چاہتے تھے۔ تاہم فرانسیسی فوجوں نے یہ منصوبہ ناکام بنایا اور تمام ہائی جیکرز کو ہلاک کر دیا۔

جانی نقصان تو کم ہی ہوا لیکن جی آئی اے کی جانب سے آنے والے سالوں میں بھی فرانس کے مختلف مقامات جن میں یہودیوں کے سکول، ریلوے سٹیشن، مشہور یاد گار آرک ٹیٹریومف اور دیگر جگہوں پر بم حملے کیے جاتے رہے۔

مارچ سنہ 1982 میں پیرس اور ٹولوس کی ٹرین میں ہونے والے حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ ایک ماہ بعد ہی شام مخالف اخبار کے پیرس میں واقع دفتر پر کار بم حملہ ہوا جس میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

بعد ازاں نئے سال کی شروعات کے موقع پر فرانس اور مارسیے کے درمیان چلنے والی تیزریل گاڑی کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا جس میں تین افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں