کامیابی کے لیے شور شرابہ کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لندن میں بھارتی وزیر اعظم کا شاندار استقبال ہوا

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا برطانیہ کا تین دن کا دورہ سنیچر کو ختم ہوگیا جہاں ان کا ایک سپر سٹار کی طرح استقبال کیا گیا۔

برطانوی پارلیمنٹ میں تقریر کرنے والے وہ پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے اور اس کے ساتھ برطانیہ کی ملکہ کے بکنگھم پیلس میں کھانا کھانے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم کا سہرا بھی انہی کے سر گیا۔

’برطانوی بھارتی نہیں ہمارے ہمسائے لگتے ہیں‘

کیا مودی کے خلاف بغاوت ہو رہی ہے؟

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے استقبال اور میزبانی نے ان کا قد مزید بلند کیا۔

اتنا شاندار استقبال اور اتنی گرمجوشی سے کوئی بھی خواب کی دنیا میں کھو سکتا ہے لیکن سپنوں کی دنیا کے باہر اصل زندگی گھر پر ان کا انتظار کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بکنگھم پیلس میں وہ شاہی ڈنر کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے

شاید مودی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ دورہ اتنی جلدی کیوں ختم ہو گیا کیونکہ بہار اسمبلی انتخابات کے سپر سٹار بننے کی ان کی کوشش بری طرح ناکام رہی ہے۔

اس کے لیے احتساب انہی کا ہوگا کیونکہ بی جے پی انھی کے نام پر انتخابات میں اتری تھی۔

دوسری طرف پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کی بغاوت کی آواز ان کے کانوں میں گونج رہی ہوگی۔ دہلی واپس جانے پر یہ آواز تیز ہونے والی ہے۔

ویمبلے سٹیڈیم کی دھوم دھام اور چمک دمک کا اثر گھر جاتے ہی ختم ہو جائے گی۔

Image caption مودی کے لیے برطانیہ کے عوام کے پاس بہت سے سوالات تھے

ان کے ناقدین ایک بار پھر ان سے یہ سوال پوچھیں گے کہ بیرونی دوروں کو کم کرکے ملک کے روز افزوں مسائل پر توجہ کیوں نہیں دیتے۔

لوگ کہیں گے کہ ’عدم رواداری‘ کے ماحول کے خلاف ویمبلے اور میڈیسن سکوائر گارڈن جیسے بلند آواز بیان کیوں نہیں دیتے؟

لیکن تین دن کے برطانوی سفر کے دوران بھی سب کچھ مودی کے مزاج کے مطابق نہیں تھا۔ ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ جوائنٹ پریس كانفرنس کے دوران برطانوی میڈیا نے ان سے چبھتے ہوئے سوالات کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کشمیری، نیپالی اور ديگر لوگوں نے ان کے خلاف آواز بلند کی

یہاں تک کہ گجرات فسادات کا بھی ذکر ہوا جو کہ مودی کو بالکل پسند نہیں۔ اس کے بعد جب وہ گاندھی کے مجسمے پر پھول چڑھا رہے تھے تو نیپالی، کشمیری اور پنجابی برادری کے لوگ ان کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

بھارت میں ان کے ناقدین بھی عزت کے دائرے میں انھیں برا بھلا کہتے ہیں لیکن یہاں تو ’مودی قاتل‘ اور ’مودی دہشت گرد‘ جیسے نعرے لگ سنے جا رہے تھے۔

زیادہ تر بھارتی میڈیا ان کے دوسرے غیر ملکی دوروں کی طرح صرف ان کی آن بان اور تارکین وطن میں ان کے بڑھتے ہوئے قد کی باتوں پر توجہ مرکوز کر رہی تھی لیکن برطانوی میڈیا انھیں بخشنے کے موڈ میں بالکل نہیں تھا۔

Image caption بھارتی نژاد لوگوں میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا تھا

دی گارڈین اخبار نے اپنے ایک تازہ اداریہ میں کہا ہے کہ مودی کا دورہ اوور دی ٹاپ یا ضرورت سے زیادہ بحث میں تھا۔

دی انڈیپنڈینٹ اخبار نے لکھا کہ گجرات فسادات کا ذمہ دار کوئی بھی ہو، یہ فسادات ان کے ہی راج میں ہوئے تھے۔ (وہ اس وقت ایک سال پہلے ہی گجرات کے وزیر اعلی بنے تھے)

کئی اخباروں نے ڈیوڈ کیمرون کی اس لیے تنقید کی کہ وہ وزیر اعظم مودی کی خوشامد پر کیوں اتر آئے تھے۔

دانشوروں اور انسانی حقوق کے اداروں نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون کو چاہیے کہ نریندر مودی سے یہ پوچھیں کہ ان کے ملک میں عدم رواداری کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

Image caption مودی کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے

لیکن ان میں سے کوئی سڑکوں پر مودی مخالف مظاہروں میں شامل نہیں ہوا۔

جہاں بھارتی نژاد کے عام لوگ اور ہندوستانی نژاد برطانوی پارلیمنٹ مودی کے آنے پر جوش نظر آ رہے تھے وہیں برطانیہ کے مقامی عوام پر ان کے دورے کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا۔

ان کے لیے تجسس سے زیادہ کچھ اور نہیں تھا، لیکن دونوں رہنماؤں کے درمیان سنجیدہ باتیں بھی ہوئیں۔

سویلین جوہری معاہدے جیسے معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے۔ برطانیہ نے بھارت میں تین سمارٹ شہروں کی تعمیر کا سودا بھی کیا اور دونوں ممالک کے درمیان نو رب پونڈ کی تجارت پر رضامندی بھی ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption اس دورے میں چند اہم تجارتی معاہدے بھی ہوئے

دونوں ممالک کے رشتوں میں ایک نئی جان پھونکنے کی ضرورت تھی.

اس دورے سے اس رشتے میں ایک نئی جان آ سکتی ہے لیکن یہاں ناقدین کہتے ہیں کہ یہ کامیابیاں شور شرابے کے بغیر بھی حاصل کی جا سکتی تھیں۔

اسی بارے میں