ایک مسلمان نے دو خواتین کی جان بچائی

Image caption سیفر الجیریا کا باشندہ ہے اور وہ اس علاقے میں رہتا ہے جہاں مسلمانوں کی مخلوط آبادی ہے

فرانس میں جمعے کی شب جب فائرنگ شروع ہوئی تو سیفر کیسا نوسترا ریسٹورنٹ میں کاؤنٹر کے پیچھے اپنے کام میں مشغول تھا۔

وہ ایسی جگہ تھا جہاں وہ مرگیا ہوتا تاہم وہ پرسکون رہا۔ بعد میں انھوں نے واقعات کے بارے میں بتایا:

’میں کاؤنٹر پر تھا، ہم نے دھماکے سنے۔ بڑے زور کے دھماکے، سب نے زور زور سے چیخنا شروع کردیا۔ شیشے ٹوٹ کر ہمارے اوپر آ گرے۔ یہ بہت دہشت ناک تھا۔ چاروں طرف شیشے کے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے بہت سے ہمارے چہروں پر لگے۔‘

’ہم نے دیکھا کہ باہر ٹیرس پر دو خواتین کو گولی لگی ہے ایک کو کلائی پر دوسرے کو کندھے پر۔ ان کے زخموں سے بہت خون بہہ رہا تھا۔‘

خطرے کے باوجود سیفر کو یہ محسوس ہوا کہ اسے ان کی مدد کرنی چاہیے۔ اس نے فائرنگ میں کمی کا انتظار کیا اور پھر وہ دوڑ کر ان زخمی خواتین کے پاس پہنچا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بہت سے لوگ زخمی ہوئے تھے

اس نے بتایا: ’میں نے انھیں اٹھایا اور انھیں لے کر تہہ خانے کی جانب بھاگا۔ میں ان کے ساتھ رہا اور خون کو روکنے کی کوشش کرتا رہا۔

’تہہ خانے سے ہم لوگ گولیوں کی آوازیں سنتے رہے۔ یہ سب بہت خوفناک تھا۔

’جب ہم باہر نکلے تو ہم نے سڑکوں پر لاشیں دیکھیں۔ بہت سے لوگ زخمی تھے۔‘

کاسا نوسترا 11 ویں مشرقی ضلعے میں ہے جہاں مسلمانوں کی مخلوط آبادی رہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سیفر اسی کیسا نوسترا ریستوراں میں کام کرتا ہے

سیفر مسلمانوں کے اسی علاقے میں رہتا ہے ان کا تعلق الجیریا سے ہے لیکن انھیں یہ نہیں معلوم کہ ان حملوں کا مقصد کیا ہے۔

کئی معاملے میں ان کی کہانی مالی کے نوجوان تارکین وطن کی کہانی سے ملتی ہے جس نے کوشر سپرمارکٹ میں جنوری میں ہونے والے حملے میں لوگوں کو بچایا تھا۔

دونوں مسلمان ہیں اور دونوں نے لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈالی تھی۔

اسی بارے میں