’سائیکل چلاؤ تو پیسہ ملے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Google Maps

اٹلی میں ایک علاقے نے کام پر جانے والے رہائشیوں کو گاڑی چلانے کے بدلے سائیکل استعمال کرنے پر سینکڑوں یورو دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

پیزا کے شہر میں قائم ماساروسا کے علاقے کی خبریں پیش کرنے والے ویب سائٹ ’ال تیرنو‘ کے مطابق علاقے کی کونسل کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کہ تحت سائیکل چلانے والے مسافروں کو سائیکل چلانے کے فی کلومیٹر پر 25 سینٹس دیے جائیں گے۔‘

تارکین وطن اب پرخطر سمندر کی بجائے سائیکلوں پر

گذشتہ برس اغوا ہونے والے چینی سیاح کو بازیاب کروا لیا گیا

لیکن کونسل نے یہ بھی کہا کہ ایک ماہ میں یہ رقم صرف 50 یورو تک محدود کی جائے گی۔

منصوبے کے تحت دو پہیوں سے چار پر آنے والے مسافر سالانہ طور پر چھ سو یورو تک کی رقم جمع کر سکتے ہیں۔

12 ماہ کی اس تجرباتی سکیم میں 50 ملازمین شامل کیے جائیں گے جو اپنے روزانہ کے سفر کو اپنے سمارٹ فون کے ذریعے ریکارڈ کریں گے۔

اس منصوبے کی فنڈنگ علاقے میں چالانوں کے ذریعے اکٹھی ہونے والی رقم سے کی جا رہی ہے۔

مقامی کونسلر سٹیفانو ناٹالی نے کہا: ’بائک ٹو ورک‘ کی سکیم شہریوں کو ایسی ترغیبات پیش کرے گی جس سے علاقے میں رہنا مزید آسان ہو جائے گا۔‘

اس منصوبے کو بنانے میں مدد کرنے والی تنظیم ’اٹالیئن فیڈریشن فرینڈز آف دا بائی سائیکل‘ کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتی ہے کہ دیگر علاقے بھی ماساروسا کی مثال کو اپنائیں گے۔

سنہ 2014 میں فرانس نے اسی منصوبے سے ملتا جلتا ایک منصوبہ شروع کیا تھا جس کے مختلف نتائج سامنے آئے تھے۔

چھ ماہ کے تجربے کے بعد فرانسیسی حکام کو پتہ چلا تھا کہ پیسوں کی ترغیبات فراہم کرنے سے زیادہ لوگ سائیکل چلانے کی طرف مائل ہو رہے تھے۔

دوسری جانب انھیں یہ پتہ چلا کہ گاڑیوں کے بجائے لوگوں کی اکثریت ویسے بھی پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتی ہے۔

اسی بارے میں