متعدد امریکی ریاستوں کے شامی تارکین وطن پر ’دروازے بند‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لاکھوں شامی تارکین وطن یورپ پہنچ رہے ہیں

امریکہ کی ایک درجن سے زیادہ ریاستوں نے پیرس میں حملوں کے بعد سکیورٹی خدشات کی وجہ سے شامی تارکین وطن کو لینے کا عمل روک دیا ہے۔

مشی گن ریاست کے گورنر رک سنائڈر نے کہا ہے کہ سکیورٹی جائزے تک وہ شامی تارکین وطن کو بسانے کے عمل کو معطل کر رہے ہیں۔

اسی طرح الاباما، ٹیکسس، وسکونسن، ایریزونا، مسیسیپی، انڈیانا سمیت 17 ریاستوں کی جانب سے شامی تارکین وطن کو بسانے کے عمل کو روکنے کا اعلان کیا ہے تاہم محکمۂ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا قانونی جواز تاحال غیر واضح ہے۔

’شامی بھی پیرس والوں کی طرح معصوم ہیں‘

امریکی صدر اوباما نے زور دیا ہے کہ امریکہ شام میں خانہ جنگی کے نتیجے میں وہاں سے نکلنے والے شہریوں کو قبول کرنے میں آگے آئے اور اپنا کردار ادا کرے۔

’شامی تارکین وطن کے لیے اپنے دروازے سختی سے بند کرنا ہمارے اقدار سے غداری ہے۔ہماری قوم کو ان پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہنا چاہیے جو شدت سے تحفط کے متلاشی ہیں اور ہماری سکیورٹی کو بھی یقینی بنائیں گے، ہمیں دونوں کو لازمی طور پر کرنا چاہیے۔‘

اگرچہ ریاست الاباما نے ابھی تک کسی شامی تارکین وطن کو قبول نہیں کیا تاہم ریاست کے گورنر کا کہنا ہے کہ’وہ الاباما کے لوگوں کو کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ممکنہ حملے کے خطرے سے دوچار نہیں کرنا چاہتے۔‘

ریاست مشی گن میں اطلاعات کے مطابق 200 شامی تارکین وطن رہائش پذیر ہیں لیکن اب ریاست کے گورنر نے کہا ہے کہ وہ داخلی سکیورٹی کے محکمے کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس اور طریقہ کار کے ازسرنو جائزے تک مزید تارکین وطن کو قبول کرنے کا عمل معطل کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے لاکھوں تارکین وطن نے یورپ کا رخ کیا ہے جبکہ امریکہ نے آئندہ 12 ماہ کے دوران 10 ہزار شامی پناہ گزینوں کو لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں