قتلِ عام کا آنکھوں دیکھا حال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مقامی وقت کے مطابق رات کو نو بج کر 40 منٹ پر پیرس کے باتاکلاں تھیئٹر کے باہر ایک سیاہ رنگ کی ووکس ویگن پولو کار آ کر رکی، جس میں سے تین مسلح افراد باہر نکلے، اور اگلے تین گھنٹوں میں عمارت میں موجود 89 لوگوں کو ہلاک، اور 99 کو زخمی کرنے بعد وہ خود بھی ہلاک ہو گئے۔

ان تین گھنٹوں میں اس تھیئٹر میں کیا ہوا، حملے میں بچ جانے والے لوگ آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہیں۔

ہلاک شدگان کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی

پیرس حملوں کے بعد: لائیو اپ ڈیٹ

شمال مشرقی انگلینڈ کے علاقے ساؤتھ شیلڈز سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ مائیکل اوکونر نے بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو کو بتایا کہ ’ایسا لگ رہا تھا کہ میں کسی مذبح میں ہوں۔ میرے چاروں طرف خون ہی خون تھا، جو کئی جگہ پر ایک سینٹی میٹر تک کھڑا ہو گیا تھا۔ مجھے باہر نکلنے کے لیے لاشوں کو پھلانگ کر جانا پڑا۔‘

پیرس کے پراسیکیوٹرز نے تمام شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات کو جمع کر کے حملوں کے سلسلے کو جوڑنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ لیکن حملوں میں بچ جانے والے لوگوں کی کہانیاں سننے کے بعد ایک جزوی تصویر بنائی جا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook Bataclan

حمہ آور رات نو بج کر 40 منٹ پر عمارت کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوئے۔ اس وقت تھیئٹر میں راک بینڈ ایگلز آف ڈیتھ میٹل کی پرفارمنس کو شروع ہوئے 30 سے 45 منٹ گزر چکے تھے۔ عینی شاہدین نے دروازے کے نزدیک فرش پر لوگوں کی لاشیں بکھری دیکھیں۔

فرانسیسی اخبار لبریشن سے بات کرتے ہوئے تین عینی شاہدین گریگور، تھامس اور نکولس نے بتایا کہ عمارت میں داخل ہونے کے بعد حملہ آوروں نے وہاں موجود لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ حملے کے آغاز میں وہ تھیئٹر کے بار میں کھڑے ہر شخص کو مارنا چاہتے تھے۔

وہ تینوں بالکونی میں کھڑے کنسرٹ دیکھ رہے تھے کہ اچانک لگا جیسے انھوں نیچے کھڑے لوگوں کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا جیسے گندم کے کھیت میں سے ہوا کا جھکڑ گزرتا ہے۔ لوگ حملہ آوروں کی گولیوں سے بچنے کے لیے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔

ایک عینی شاہد فہمی نے لبریشن سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ نیچے ہال میں موجود تھا کہ اس نے پٹاخوں سے ملتی جلتی آواز سنی۔ ’پہلے مجھے لگا کی یہ سب شو کا ہی ایک حصہ ہے لیکن جیسے ہی میں پیچھے مڑا میں نے دیکھا کہ ایک شخص کی آنکھ میں گولی لگی ہوئی ہے۔‘

بہت سے لوگ زمین پر گر ے ہوئے تھے۔ حملہ آور ان لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ایسا لگتا ہے کہ ایک حملہ آور سیڑھیوں سے چڑھ کر اوپر چلا گیا تھا، جس نے بالکونی میں موجود لوگوں پر فائرنگ کی۔ ممکن ہے اس نے یہ مقام زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیا ہو۔

لبریشن سے بات کرنے والے ایک اور عینی شاہد اینتھونی نے بتایا کہ ’اسی الجھن اور گھبراہٹ میں ایک سکیورٹی گارڈ نے تمام لوگوں سے چیختے ہوئے کہا کہ وہ سٹیج کے بائیں جانب ایمرجنسی اخراج کی طرف ان کے پیچھے آئیں۔

بہت سے لوگ اس ہی طرح باہر نکلے، جن میں سے کئی زخمی بھی ہوگئے۔ ان کے باہر نکلنے کا منظر سڑک کے دوسری جانب اپارٹمنٹ کی اوپری منزل کی کھڑکی سے موبائل فون پر ریکارڈ کر لیا گیا تھا۔

فرانسیسی ریڈیو نیٹ ورک یورپ ون کے صحافی جولین پیئرس حملوں کے دوران تقریباً دس منٹ تک سٹیج کے قریب ہی فرش پر لیٹے رہے۔

حملہ آوروں کی طرف سے ہتھیاروں میں دوبارہ گولیاں بھرنے کے دوران فائرنگ میں تھوڑا وقفہ آگیا۔ اس ہی دوران پیئرس نے اپنے اطراف میں مزید دس لوگوں کو سٹیج پر کود کر باہر بھاگنے کا راستہ دکھایا۔

’ہم نے سٹیج کے دائیں جانب ایک چھوٹے سے کمرے میں پناہ لی لیکن بدقسمتی سے اس کمرے سے آگے کوئی راستہ باہر کی طرف نہیں جاتا تھا۔ ہم پھنس چکے تھے۔ اس سے قبل کہ فائرنگ دوبارہ شروع ہوتی وہ تیزی سے سٹیج پر سے گزرتے ہوئے ایمرجنسی راستے سے باہر آگئے۔ پیئرس نے ایک شدید زخمی خاتون کو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر باہر لائے۔‘

گریگو ، تھامس، اور نکولس کے مطابق تقریباً 50 افراد نے چھت پر چڑھ کر جان بچائی جہاں وہ وہ پولیس کی کارروائی مکمل ہونے کے اگلے دو گھنٹوں تک موجود رہے۔ کچھ لوگوں نے آفس کے کمروں، اور ٹوائلٹوں میں گھس کر جان بچائی۔

لیکن بہت سے لوگوں کے پاس لاشوں اور زخمیوں کے درمیان ہی رہ کر مدد کا انتظار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

او کونر کو بدترین نتائج کا خوف تھا۔ ’میں نے اپنی گرل فرینڈ سے کہا کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ ان حالات میں آپ اس سے زیادہ کیا کرسکتے ہیں۔‘

ٹریزا سیڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک شخص بری طرح زخمی تھا اور کراہ رہا تھا۔ ہم نے اس سے آہستہ سے کہنے کی کوشش کی کہ وہ خاموش رہے، ہلے جلے نہیں تاکہ زندہ رہ سکے۔ کیونکہ وہ جب بھی کسی کو ہلتا جلتا دیکھتے تھے تو مزید فائرنگ شروع کر دیتے تھے۔

سیڈ کہتی ہیں کہ ایک نہ ختم ہونے والے انتظار کے بعد آخر پولیس آگئی۔

او کونر نے کہا کہ ’میں اپنے عقب میں ہال کا داخلی دروازہ دیکھ سکتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ دروازہ آہستہ سے کھلا ہے۔ مجھے نہیں معلو م تھا کہ کون اندر آ رہا ہے۔ لیکن بعد میں میں نے ٹارچون اور فلیش لائٹوں کی روشنی دیکھی اور سوچا کہ یہ پولیس ہی لگتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

’انھوں نے بلٹ پروف جیکٹیں پہنی ہوئی تھیں۔ وہ کچھ کہے بغیر ہی ہمیں بغور دیکھتے رہے۔ انھوں نے ہال کے عقبی جانب ایک ہالا بنایا اور اپنی بندوقیں بالکونی کی جانب کر دیں، جہاں حملہ آور ابھی بھی چھپے ہوئے تھے۔

’ہم نے ایک بندوق کے فائر کی آواز سنی۔ مجھے نہیں معلوم آیا وہ فائر ہمارے قریب کھڑی پولیس نے کیا تھی یا پھر بالکونی کی طرف نشانہ باندھی پولیس نے۔ لیکن اس کے بعد ہم نے فائرنگ کی مزید آوازیں سنی۔‘

پیرس کے چیف پراسیکیوٹر کے مطابق ایک پولیس افسر نے ایک حملہ آور کو ہلاک کر دیا، اور اس کی خود کش جیکٹ بھی ناکارہ بنادی۔ باقی دو حملہ آورون نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔

او کونر نے بتایا کہ ’آخر کار پولیس نے ہم سے اپنے بازو ہوا میں لہرانے کو کہا تاکہ ان کو معلوم ہوسکے کہ ہم میں سے کون زندہ ہے۔ وی نجات کی گھڑی تھی۔‘

محاصرہ ختم ہو چکا تھا لیکن اس حملےمیں شدید زخمی ہونے والوں کی زندگیاں بچانے کی طویل دوڑ کا ابھی آغاز ہوا تھا۔

اسی بارے میں