فرانس میں ایمرجنسی میں تین ماہ کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’پیرس میں حملے کرنے والے شدت پسند اور ان کے ساتھی کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال بھی کر سکتے تھے‘

پیرس پر حملوں کے بعد ملک میں فوری طور ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا گیا تھا اور فرانسیسی ایوان زیریں نے ایمرجنسی کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

جمعے کو ہونے والے حملوں میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان حملوں کے فوری بعد فرانسیسی صدر نے ملک میں 12 روز کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

ایمرجنسی میں توسیع کے باعث وہ پولیس اہلکار جو ڈیوٹی پر نہیں ہیں، وہ بھی اسلحہ لے کر چل سکیں گے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ فرانس کی سینیٹ ایمرجنسی کی توسیع کی منظوری جمعے کو دے گی۔

پیرس کے مضافات میں آپریشن: تصاویر

پیرس میں حملہ کرنے والے کون تھے؟

ہم نے اس رات اصل جنہم دیکھی

پیرس میں حملوں پر خصوصی ضمیمہ

اس سے قبل فرانس کے وزیر اعظم مینوئل والس نے ملکی پارلیمان میں ایمرجنسی کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کے مسودے پر بحث کے دوران کہا کہ گذشتہ ہفتے پیرس میں حملے کرنے والے شدت پسند اور ان کے ساتھی کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال بھی کر سکتے تھے۔

فرانسیسی وزیر اعظم نے کہا کہ فرانس میں دہشت گردی اس لیے نہیں کی گئی کہ فرانس شام اور عراق میں فوجی کارروائی میں مصروف ہے بلکہ فرانس جو کچھ ہے اس وجہ سے یہ دہشت گردی کی گئی۔

دریں اثنا فرانسیسی پولیس کے ماہرین پیرس کے مضافات میں کیے گئے آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت اور اس بات کے تعین کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ آیا مرنے والوں میں پیرس حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز عبدالحمید اباعود بھی شامل ہیں یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آپریشن کا ہدف بننے والا فلیٹ کارروائی کے دوران بری طرح تباہ ہوا

بدھ کو دارالحکومت پیرس کے شمالی مضافاتی علاقے ساں ڈنی میں سات گھنٹے جاری رہنے والی یہ کارروائی وہاں کے ایک اپارٹمنٹ میں 27 سالہ اباعود کی موجودگی کی اطلاعات پر کی گئی تھی۔

اس دوران وہاں ایک خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا کہ ایک شخص پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکام کے مطابق ساں ڈنی میں آپریشن ایک نئے حملے کو ناکام بنانے کے لیے کیا گیا

تاہم آپریشن کی تکمیل کے بعد پیرس کے پراسیکیوٹر فرانسوا مولنز نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ ساں ڈنی کے فلیٹ سے ایک اور مسخ شدہ لاش بھی ملی ہے اور اس کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران فرانسوا مولنز کا یہ بھی کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران جن آٹھ افراد (سات مرد اور ایک خاتون) کو حراست میں لیا گیا تھا ان میں نہ تو عبدالحمید اباعود اور نہ ہی صالح عبدالسلام شامل ہیں۔

خیال رہے کہ جہاں عبدالحمید اباعود کو پیرس حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جا رہا ہے وہیں صالح عبدالسلام ان مبینہ حملہ آوروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے پیرس کو نشانہ بنایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکام کے مطابق بدھ کی صبح کیے گئے آپریشن میں اتنی شدید لڑائی ہوئی کہ پولیس نے پانچ ہزار گولیاں چلائیں

خیال رہے کہ پیرس میں گذشتہ جمعے کو خودکش دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکام کے خیال میں ان حملوں کی منصوبہ بندی مراکشی نژاد بیلجیئن شدت پسند عبدالحمید اباعود نے کی تھی اور ابتدائی طور پر یہ خیال سامنے آیا تھا کہ وہ شام میں موجود ہیں۔

اسی بارے میں