بیلجیئم میں پولیس کو ’کئی مشتبہ افراد‘ کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بیلجیئن حکام نےبرسلز میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے

بیلجییئم پولیس اہلکاروں کی جانب سے مشتبہ شدت پسندوں کی تلاش جاری ہے اور دارالحکومت برسلز میں آج دوسرے روز بھی سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔

وزیر داخلہ جان جیمبون کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کا موجودہ خطرہ اس خطرے سے بڑا ہے جو پیرس حملوں میں مطلوب صالح عبدالسلام کی وجہ سے درپیش تھا۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کو کئی مشتبہ افراد کی تلاش ہے۔

برسلز میں حملے کے خوف سے سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور حکومت اتوار کو سکیورٹی کی صورتحال کا از سرِ نو جائزہ لے رہی ہے۔

پیرس حملوں کا مبینہ ملزم گرفتار

’تمام ممالک دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شامل ہوں‘

پیرس حملہ آور کے بھائی کو چھوڑ دیا گیا

میٹرو سروس کو پیر تک بند کر دیا گیا ہے اور لوگوں کو ہجوم سے دور رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

چند گھنٹے قبل پیرس جیسے حملوں کے خدشات کے اظہار کے بعد شہر کے ریستوران اور دیگر مقامات بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

شہر کی سڑکوں پر فوج کے دستے گشت کر رہے ہیں اور مبینہ شدت پسند صالح عبدالسلام کی تلاش جاری ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ خودکش بیلٹ پہنے ہوئے حملے کے لیے تیار ہیں۔

اطلاعات کے مطابق وہ برسلز سے شام جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے پیرس میں ہونے والے حملوں میں ملوث شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے حملہ آوروں نے برسلز میں قیام کیا تھا۔ ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بیلجیئم کے وزیراعظم چارلس مچل کا کہنا ہے کہ ’کچھ محدود اطلاعات‘ ہیں کہ ’اسلحے اور دھماکہ خیز مواد سے لیس کئی افراد حملہ کرسکتے ہیں۔۔۔ شاید کئی مقامات پر۔‘

صالح عبدالسلام کو بیلجیئم لے جانے والے ایک ڈرائیور نے اپنی وکیل کو بتایا کہ عبدالسلام نے ایک بڑی جیکٹ پہن رکھی تھی اور شاید وہ دھماکے کے لیے تیار تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شاپنگ مالز، کیفے اور ریستورانوں کو شام چھ بجے بند کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ سڑکوں پر فوج تعینات ہے

وکیل کیرین کوکوئلیٹ نے بیلجیئن ٹی وی پر ان خدشات کا اظہار کیا۔ انھوں نے اس امر کا بھی اظہار کیا کہ صالح عبدالسلام پیرس میں خود کو دھماکے سے اڑا سکتے تھے لیکن انھوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا۔

صالح عبدالسلام کے دوستوں نے سکائپ پر اے بی ای نیوز کو بتایا کہ وہ برسلز میں چھپے ہوئے تھے اور شام جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ یورپی حکام اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے ان اراکین کے درمیان پھنس گئے ہیں جو ان پر ’نظر رکھے ہوئے ‘ تھے اور ان کے خودکش حملہ نہ کرنے پر ناخوش تھے۔

یو ایس یورپ کمانڈ نے اپنے فوجی اہلکاروں اور کنٹریکٹرز کے آئندہ 72 گھنٹوں تک برسلز جانے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ سفارتخانے کے عملے سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption باتالکان تھیٹر حملے میں 89 افراد ہلاک ہوئے

سنیچر کو وائس نیوز نے باتاکلان تھیٹر میں حملے کے وقت پرفارم کرنے والے میوزک بینڈ ایگلز آف ڈیتھ میٹل کے انٹرویو کا ایک کلپ چلایا۔

یہ انٹرویو آئندہ ہفتے چلے گا۔ اس کلپ میں گلوکار جیسے ہیوگس کہتے ہیں کہ وہاں موجود ڈریسنگ روز میں چھپے تمام افراد میں سے ایک ہی زندہ بچ پایا۔

وہ بتاتے ہیں کہ بہت سے لوگ اس لیے ہلاک ہوئے کیونکہ وہ اپنے دوستوں کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے تھے اور وہ ایک دوسرے کی ڈھال بنے۔

دوسری جانب ترکی میں حکام نے کہا ہے کہ بیلجیئم کے ایک شہری کو پیرس حملوں سے تعلق کے شبہ میں اُس وقت گرفتار کیا گیا ہے جب وہ دو دیگر مشتبہ شدت پسندوں سمیت شام جا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مبینہ طور پر پیرس حملوں میں ملوث مراکشی نژاد احمد داھمانی کو ترکی ساحلی شہر انتالیہ سے حراست میں لیا گیا

مراکشی نژاد احمد داھمانی کو ترکی ساحلی شہر انتالیہ کے ایک ہوٹل سے حراست میں لیا گیا۔ایک ترک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ 26 سالہ ملزم کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ پریس میں حملے کرنے والوں سے رابطے تھا۔

انھوں نے کہا کہ داھمانی ایک ہفتے قبل ایمسٹرڈم سے آئے تھے اور دو دیگر مشتبہ شدت پسندوں کے ساتھ شام جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ ان افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں