مالی حملے کے بعد ہنگامی حالت نافذ، تین حملہ آوروں کی تلاش جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس حملے کی ذمہ داری شمالی افریقہ میں القاعدہ کی شاخ ’القاعدہ فی بلاد مغرب‘ اور اس سے منسلک گروہ ’المرابطون‘ نے قبول کی ہے

مالی کے دارالحکومت باماکو میں ایک ہوٹل پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز حملے میں ملوث کم از کم تین مشتبہ افراد کو تلاش کر رہی ہے۔

جمعے کو باماکو کے ریڈیسن بلو ہوٹل میں شدت پسندوں نے درجنوں افراد کو یرغمال بنا لیا تھا جن میں سے 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سرکاری حکام کا کہنا تھا کہ جب سکیورٹی فورسز نے یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے کارروائی کی تو اس میں دو دہشتگرد مارے گئے تھے جبکہ تین موقعے سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

مالی میں ہوٹل پر حملے کے بعد ہنگامی حالت کا نفاذ

مالی میں ہوٹل پر حملہ: کب کیا ہوا؟

مالی حملہ: تصویروں میں

صرف کلمہ پڑھنے والے کو چھوڑ رہے تھے‘

صدر ابراہیم بوبکر کیتا نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے علاوہ تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ صدر کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ملک ’دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کے لیے ہر قسم کے اقدامات اٹھائے گا۔‘

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ ہوٹل پر حملہ کرنے اور وہاں موجود لوگوں کو یرغمال بنانے والے دہشتگردوں کی کل تعداد کیا تھی، تاہم عینی شاہدین کے مطابق انھوں نے تقریباً 13 افراد کو ہوٹل کے اندر داخل ہوتے دیکھا تھا جو اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے۔

دوسری جانب ریڈیسن بلو ہوٹل چلانے والی کپمنی کا کہنا تھا کہ اس حملے میں صرف دو دہشتگرد شریک تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر ابراہیم بوبکر کیتا نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کرنے کے علاوہ تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے

اس حملے کی ذمہ داری شمالی افریقہ میں القاعدہ کی شاخ ’القاعدہ فی بلاد مغرب‘ اور اس سے منسلک گروہ ’المرابطون‘ نے قبول کی ہے۔

مالی کے سرکاری حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے 19 افراد میں چینی، روسی اور ایک امریکی شہری بھی شامل تھا۔

دہشتگردوں میں سے دو اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب سکیورٹی فورسز نے 130 سے زائد مہمانوں اور ہوٹل کے عملے کے افراد کو رہا کرانے کے لیے کارروائی کی۔

چین کے صدر شی جنگ پنگ نے ریڈیسن بلو ہوٹل پر دہشتگردوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ظالمانہ اور وحشیانہ اقدام قرار دیا ہے۔ چینی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ملک دہشتگردی کے خلاف تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ ہوٹل پر حملے نے ہمیں ایک مرتبہ پھر یاد دلا دیا ہے کہ آج کتنی اقوام کو ’دہشت گردی کے تازیانے‘ کا سامنا ہے۔

حملے کے حوالے سے برطانیہ کے وزیرِ خارجہ فلپ ہیمنڈ نے بتایا ہے کہ ہوٹل میں موجود تینوں برطانوی شہری محفوظ رہے ہیں۔

بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نامہ نگار فریک گارڈنر کا کہنا ہے کہ القاعدہ اور اس سے منسلک گروہ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی کو اب بھی مزاحمت کاروں کی کارروائیوں کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ اگست میں بھی مالی کے ایک اور ہوٹل میں حملہ ہوا تھا جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں اقوامِ متحدہ کے اہلکار بھی شامل تھے۔

مالی ماضی میں فرانس کی نوآبادی رہی ہے اور جنوری 2013 میں القاعدہ کے حملوں کے بعد فرانس نے مالی میں مداخلت کی اور ملک کے شمالی علاقوں کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

اسی بارے میں