’مجھے بچہ نہیں چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Holly Brockwell

بعض خواتین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے ہوں جبکہ بعض کی خواہش ہوتی ہے کہ بچے نہ ہوں۔یہاں ایسی ہی دو خواتین وضاحت کر رہی ہیں کہ وہ کیوں بچوں کے بغیر رہنا چاہتی ہیں۔

لندن سے تعلق رکھنےوالی 29 سالہ ہولی بروک ویل اپنا آپریشن کروانے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ ان کے بچے نہ ہوں جبکہ تقریباً 30 سالہ نینا نیکو (یہ ان کا فرضی نام ہے) کو جو ایران سے ہیں حاملہ ہونے کے لیے خاندان والوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔

ہولی بروک ویل

’ایک خاتون کی حیثیت سے ایسے چار الفاظ ہیں جو دوسروں کی نسبت میں زیادہ انکساری کے ساتھ کہتی ہوں کہ مجھے بچے نہیں چاہیئں۔‘

’لیکن کیوں؟‘ لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا اس کا کوئی آسان جواب ہے کہ آپ کیوں طبعی اور غیر معقول طور پر ایک ایسی چیز سے انکار کر رہی ہیں جو انسانوں کا بنیادی حصہ سمجھی جاتی ہے۔

’ایک لمحے کے لیے اگر میں یہ کہوں کے مجھے نہیں لگتا کہ میں ایک اچھی ماں بن سکتی ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ پہلے پہل سب کو ایسا ہی لگتا ہے اور اگر میں کہوں کہ میرا نہیں خیال کے میرے پاس اتنا وقت، قوت اور پیسہ ہوگا تو جواب ملتا ہے کہ آپ راستہ نکال لیں گی۔ اگر میں کہتی ہوں کہ میں اپنے کریئر پر توجہ دینا چاہتی ہوں تو مجھے خود غرض کہا جاتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Holly Brockwell
Image caption سب کو بچوں کی خواہش ہوتی ہے یہ بات صحیح نہیں ہے کیوں کہ میری والدہ کے ساتھ ایسا ہوا ہے

ایسا لگتا ہے کہ بچے کی خواہش نہ ہونے کی کوئی قابل قبول وجہ نہیں ہے۔

سب کو بچوں کی خواہش ہوتی ہے یہ بات صحیح نہیں ہے کیوں کہ میری والدہ کے ساتھ ایسا ہوا ہے۔

‘میری والدہ نے یہ بات کبھی نہیں چھپائی کہ وہ بچے پیدا نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن انھوں نے صرف اس وجہ سے بچے پیدا کیے کیونکہ میرے والد فیملی چاہتے تھے۔‘

’برطانیہ میں نس بندی کے آپریشن کے لیے عمر کی قید نہیں ہے اس کے باوجود مجھے چار بار کوشش کرنا پڑی اور ہر بار کہا گیا کہ آپ اس آپریشن کے لیے بہت کم عمر ہیں۔تاہم رواں برس بلآخر مجھے موقع مل ہی گیا۔‘

آپریشن کا بندو بست کرنے تک میں بہت خوش تھی لیکن ماری سٹوپس نے جو نیشنل ہیلتھ سروس میں تمام معاملات طے کرتی ہیں مجھے بتایا کہ یہاں کوئی سرجن ہی نہیں ہے۔ لہذا مجھے اپنی جنرل پریکٹس پر جانا ہوگا۔ اسی دوران مجھے این ایچ ایس میں کہیں اور بھیج دیا گیا جس کا مطلب تھا کہ تمام عمل دوبارہ سے شروع کرنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Holly Brockwell
Image caption بروک ویل حاملہ ہونے کے خوف کے بنا اپنی زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہیں

میں امتناع حمل کے لیے کوئی راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتی۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سب سے بہتر عمل دس منٹ کا آپریشن ہے اور مجھے یقین نہیں آتا کہ 30 سال کی عمر میں اور 2015 میں مجھے اس کے لیے لڑنا پڑ رہا ہے۔

ہم 16 سال کی عمر میں ماں بننا تو منتخب کر سکتے ہیں لیکن ماں نہ بننے کا انتخاب آپ 30 سال کی عمر میں بھی نہیں کر سکتے۔ میرے خیل میں ہماری خواہشات کو صرف اسی وقت سنجیدگی سے لیے جاتا ہے جب وہ روایات کے مطابق ہوں۔

میں روایات میں کبھی نہیں پڑی۔ حال ہی میں میں نے ایک ٹیکنالوجی ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے جسے خواتین نے لکھا ہے۔ میں فخر سے کہتی ہوں کہ اگر میری کوئی اولاد ہے تو وہ یہ ہے۔

نینا نیکو

میرے خیال میں، میں خوش نصیب ہوں کہ میں ایک عورت ہوں لیکن دوسروں کی طرح نہیں۔ میں نے کبھی ماں بننے کا نہیں سوچا، میں ہمیشہ ایک ایسے بچے کو پیدا کرنے کو جرم سمجھتی ہوں جسے آپ اس دنیا میں نہیں لانا چاہتے۔

میں نے اپنے کاروبار کے لیے بہت محنت کی ہے۔ اب میرے پاس چھ لوگ کام کرتے ہیں اور میں اپنے کام سے بہت مطمئن ہوں۔ بعض لوگ مجھے خود غرض سمجھتے ہیں، مجھے نہیں معلوم شاید میں ہوں۔ لیکن لوگ کیا سوچتے ہیں اس سے ہٹ کر میں اس خواب کو نہیں چھوڑ سکتی جو اتنے سالوں کے بعد پورا ہوا ہے۔

میرے والدین نے جب یہ سنا کہ میں بچے پیدا نہیں کرنا چاہتی تو وہ حیران رہ گئے۔وہ ابھی بھی اکثر اس پر بات کرتے ہیں اور وہ ہی نہیں باقی خاندان والے بھی یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں غلطی کر رہی ہوں۔

مجھے یاد ہے کہ میری شادی کے فوراً بعد ہی لوگوں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ مجھ میں یا میرے خاوند میں بانجھ پن کا مسئلہ ہے اور ہم ان سے یہ چھپا رہے ہیں۔

اب بہت سے لوگ تو خاموش ہو گئے ہیں لیکن میری والدہ اور والد کا کہنا ہے کہ میں ایک نہ ایک دن اپنی سوچ ضرور بدلوں گی۔

ایران میں پڑھی لکھی عورت کے لیے بچہ ایک بوجھ ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ اپنی نوکری پر توجہ نہیں دے سکتے، آپ کی آزادی محدود ہو جاتی ہے، اور اگر آپ کی شادی نہ چل سکی تو دوسرے خاوند کے ملنے کے مواقعے بہت کم رہ جاتے ہیں۔

مجھے غلط نہ سمجھیں، مجھے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا پسند ہے لیکن تب جب وہ میرے نہ ہوں۔ میں جب کسی بچے کو اس کی والدہ کی گود میں دیکھتی ہوں تو میرا دم گھٹتا ہے، میں بہت خوش ہوں کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے۔

میں نے پہلے دن ہی اپنے خاوند کو بتا دیا تھا کہ مجھے بچے نہیں چاہیئں اور انھیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

میں اس بارے میں ہر روز سوچتی ہوں، درحقیقت میں چاہتی ہوں کہ مجھ میں ماں جیسے جذبات آئیں اور مجھے اس دن کا انتظار ہے جب میں شاید بدل جاؤں لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

Image caption بی بی سی نے اپنے سنہ 2015 کے ’100 خواتین‘ سیزن کے لیے دنیا بھر سے، زندگی کے تمام شعبوں اور عمر کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین کا انتخاب کیا ہے جو دیگر خواتین کے لیے زندگی میں باعثِ تحریک ہیں

اسی بارے میں