پیرس کے ایک یرغمالی کی کہانی

Image caption 49 سالہ سٹیفن حملے کے وقت پیرس کے بٹاکلان تھیٹر میں موجود تھے

13 نومبر کی رات تین بچوں کے والد سٹیفن پیرس کے بتاکلان تھیٹر میں موجود تھے جہاں اسلامی شدت پسندوں نے 89 افراد کو قتل کیا اور کئی افراد مغوی بنایا، مغویوں میں سے ایک سٹیفن بھی تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو شدت پسندوں کے ہاتھوں ڈھائی گھنٹے تک ترغمال رہنے کی روداد سنائی۔

حملے کے ایک ہفتے گزر جانے کے بعد آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟

میں نے بدھ سے دفتر دوبارہ جانا شروع کیا ہے۔ میرے لیے یہ ضروری تھا کہ واپس جاؤں اور اپنے ساتھیوں کو ساری کہانی سناؤں۔ اپنے سے کی جانے والی ہمدردی کا جواب دوں۔

آج میں اپنے آپ کو نفسیاتی لحاظ سے بہتر محسوس کر رہا ہوں اور اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں کسی اور کا واقعہ سنا رہا ہوں۔

جب آپ تھیٹر میں موجود تھے تو آپ کے ساتھ کیا ہوا؟

جب دہشت گرد اندر داخل ہوئے تو میں سیٹرھیوں کے ساتھ بالکونی میں تھا اور انھوں نے نیچے موجود شائقین پر فائرنگ شروع کر دی۔ پہلے تو لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلا کہ کیا ہوا ہے اور وہ سمجھے کے یہ کریکر ہے لیکن پھر لوگ خوف زدہ ہو گئے اور بینڈ کے اراکین سٹیج چھوڑ کر بھاگ گئے۔

میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ دہشت گرد حملہ ہے۔ میں بھاگنا چاہتا تھا لیکن جیسے ہی میں سٹرھیوں کی جانب بڑھا مجھے لگا کہ میں دہشت گرد کے سامنے آ جاؤں گا اور وہ مجھے مار دیں گے۔ میں واپس چلا گیا اور میں نے دیکھا کہ وہ بالکونی کے آخر تک آ گئے ہیں۔ میں کرسیوں کے درمیان زمین پر لیٹ گیا۔وہ ہماری جانب آ رہے تھے۔ اُن میں سے دو کے پاس کلاشنکوف تھیں۔

انھوں نے کہا ’ہم تمھیں نہیں ماریں گے اور کونے میں آ جاؤ۔ انھوں نے ہمیں ایک طرف اکٹھا کیا اور اپنا پیغام سنایا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دہشت گردوں نے کنسرٹ ہال میں موجود 89 افراد کو ہلاک کیا اور کئی افراد کو مغوی بنایا

انھوں نے ہم سے کہا کہ ’ہم دولتِ اسلامیہ کا حصہ ہیں۔ ہم یہاں شام میں ہلاک ہونے والی خواتین اور بچوں کا بدلہ لینے آئے ہیں جو تمہارے صدر کے فیصلے کے بعد بم اور فضائی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔‘

اس لمحے میں نے نیچے ایک دھماکے کی آواز سنی جہاں سٹیج تھا۔ یہ اُس وقت ہوا جب پولیس اہلکار نے ایک تیسرے دہشت گرد پر فائرنگ کی اور اُس نے اپنی خودکش جیکٹ دھماکے سے اڑا دی۔

اس کے بعد دہشت گرد ہمیں کنسرٹ ہال سے ملحق ایک راہداری میں لے گئے۔ ہم تقریبا 11 سے 12 یرغمالی تھے اور دو دہشت گرد۔

انھوں نے کچھ یرغمالیوں کو کھڑکی کے سامنے کھڑا کر دیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ سامنے کی عمارت میں کیا ہو رہا ہے ۔ کچھ افراد کو کنسرٹ ہال کے دروازے کے سامنے کھڑا کر دیا گیا اور باقی افراد کو راہداری کے آخر میں سٹیج کے پیچھے جانے والی سڑھیوں کے قریب کھڑا کیا۔ ہم نے اس راہداری میں ڈھائی گھنٹے گزارے۔

پولیس کی خصوصی فورسز نے آپریشن شروع کیا اور غیر یقینی طور پر کوئی ایک یرغمالی بھی زخمی نہیں ہوا۔

فورسز نے یہ سب کیسے کیا؟

خصوصی افواج نے آہستہ سے دروازہ کھولا تو دہشت گرد دروازے کے پیچھے ہو گئے۔ دروازے کے قریب موجود مغوی خوف زدہ ہو گئے اور کہا کہ ’یہ ہمیں دھماکے سے اڑا دیں گے ہم دروازے کے قریب ہیں۔ اس لیے آگے نہ آؤ۔‘

دوسری جانب موجود دہشت گردوں نے فائرنگ کی اور پولیس نے سٹین گرینیڈ پھینکے۔ میں کونے میں فرش پر گر گیا اور ایک گرینیڈ تو میرے پاؤں کے پاس آ کر گرا۔ پولیس فائرنگ کرتے ہوئے آگے بڑھتی گئی۔

اُس وقت کا منظر میرے دماغ میں نقش ہو گیا ہے۔ میرے سے ایک میٹر کے فاصلے پر موجود دہشت گرد کے ایک ہاتھ میں کلاشنکوف بندوق تھے جس سے وہ فائرنگ کر رہا تھا اور دوسرا ہاتھ ڈیٹونیٹر پر تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اُس نے اپنی خودکش جیکٹ کیوں نہیں اڑائی۔

خصوصی افواج نے ہمیں وہاں سے نکالا اور ہال میں آنے کے بعد انھوں نے قمیض اُٹھا کر یقین دہانی کی، کہ کہیں ہم میں سے کسی نے خودکش جیکٹ تو پہن نہیں رکھی۔ اُس کے بعد وہ ہمیں باہر لے آئے۔

راہداری میں کیا ہوا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سٹیفن اس ہال میں ہونے والے کنسرٹ میں شریک تھے۔

دہشت گردوں نے یرغمالیوں سے کہا کہ وہ اپنے موبائل نمبر پولیس کو دیں تاکہ پولیس دہشت گردوں سے رابطہ کرے۔

وہ بس یہی کہہ رہے تھے کہ ’ہم دولتِ اسلامیہ ہیں۔ اگر ہمیں خطرہ محسوس ہوا تو ہم ہر چیز دھماکہ سے اڑا دیں گے ہم نے خودکش بیلٹس پہن رکھی ہیں۔‘

دہشت گرد کوشش کر رہے تھے کہ یرغمالیوں میں کوئی جوڑا بھی ہو کیونکہ وہ اُن میں سے ایک کو ہدایات دے کر پولیس کے پاس بھیجنا چاہتے تھے۔

وہ صرف انھیں سے بات کر رہے تھے جو اُن کے نزدیک تھے۔ انھوں نے مجھے مخاطب نہیں کیا۔

آپ حملہ آوروں اور دولتِ اسلامیہ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

یہ تھوڑا مشکل ہے۔ میری بیوی کی بہن نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں اُن حملہ آوروں سے نفرت کرتا ہوں؟ میں اُن کے لیے نفرت محسوس نہیں کرتا۔ میں یہ سمجھ نہیں پہ رہا کہ کیا سوچ کر انھوں نے یہ قدم اُٹھایا؟ میں اپنے آپ سے بھی سوال کرتا ہوں کہ وہ اس طرح کی کارروائیاں کیوں کرتے ہیں؟ ایک اور سوال کہ انھوں نے ہمیں مارا کیوں نہیں؟

کیا آپ کو پیرس پہلے سے مختلف لگتا ہے؟

ہاں بالکل! کنسرٹ میرے لیے خوشی کا سبب تھے اور یہ میری زندگی کا اہم حصہ تھے لیکن کیا میں اب فوری طور پر کسی کنسرٹ پر جا سکوں گا؟ میں اس کا جواب نہیں دے سکتا لیکن میں کام پر واپس آ گیا ہوں اور میں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتا ہوں۔

میں اپنے اپارٹمنٹ میں بھی آواز سنتا ہوں تو اُٹھ کر بھاگتا ہوں۔ میں سڑکوں پر اور ٹیوب میں لوگوں کو مختلف نظر سے دیکھتا ہوں۔ لیکن میرے خیال میں زندہ رہنے کے لیے اس پر قابو پانا ضروری ہے۔

میں فیس بک کے ذریعے اُن دوسرے 10 یا 11 یرغمالیوں کو تلاش کر رہا ہوں جو ڈھائی گھنٹے تک میرے ساتھ تھے۔ مجھے امید ہے کہ میں جلد اُن سے ملوں گا اور ہم بیئر پیتے ہوئے ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ’ہمیں زندگی میں دوسرا موقع ملا ہے اور ہمیں بھرپور زندگی گزارنی چاہیے۔‘

اسی بارے میں