دولتِ اسلامیہ کے اکاؤنٹس کی اب جاسوسی

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption گھوسٹ سکیورٹی گروپ کے ممبران ہیکروں سے زیادہ جاسوسوں کی طرح کام کرتے ہیں

پیرس حملوں کے تناظر میں ہیکروں کی تنظیم ’انانیمس‘ نے نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف انٹرنیٹ کے ذریعے سے ’اعلانِ جنگ‘ کیااور دولتِ اسلامیہ کے کارندوں کے استعمال میں رہنے والے ہزاروں ٹویٹر اکاؤنٹس بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

لیکن ایک قدرے چھوٹا آن لائن گروپ ایک بالکل الگ حکمتِ عملی کے ساتھ اُبھر کر سامنے آیا ہے اور اُن کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلے ہی دہشت گردی کے کم از کم ایک حملے کو ناکام بنا چکے ہیں۔

’دولتِ اسلامیہ بچوں کو لبھا رہی ہے‘

انانیمس کے اعلانِ جنگ کا مطلب کیا؟

گھوسٹ سکیورٹی گروپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی ٹرینڈنگ سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’انھیں (انانیمس کو) انسدادِ دہشت گردی کا کسی بھی قسم کا تجربہ نہیں ہے۔ ہمیں محسوس ہوا کہ جو کچھ کیا جا رہا تھا وہ کافی نہیں تھا اور چارلی ہیبڈو پر حملے سے یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ دولتِ اسلامیہ محض مشرقِ وسطیٰ تک ہی محدود نہیں تھی۔‘

سکیورٹی ایجنسیاں جیسا کہ امریکی ایف بی آئی نے گروپ کے حوالے سے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اور آزادانہ طور پر یہ مشکل ہے کہ اُن کے دعوؤں کی تصدیق کی جا سکے۔

لیکن گھوسٹ سکیورٹی گروپ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اُن کے رضاکار امریکہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ میں مقیم ہیں اور اُن میں مختلف زبانیں بولنے اور سمجھنے والے لوگ شامل ہیں اور ’یہ تمام لوگ خفیہ معلومات اکھٹا کرنے کے فن میں مکمل مہارت رکھتے ہیں۔‘

گھوسٹ سکیورٹی گروپ کے ممبران ہیکروں سے زیادہ جاسوسوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ وہ دولتِ اسلامیہ کے مشتبہ ٹویٹر اکاؤنٹس کی نگرانی کرتے ہیں اور معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے شدت پسندوں کے میسج بورڈز میں خفیہ طور پر داخل ہوتے ہیں اور اُن کے مطابق اس کے بعد وہ ان معلومات کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کر دیتے ہیں۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے مطابق ’ہم ویب سائٹس کو بند کرنے کے بجائے ان حملوں کو روکنا زیادہ پسند کریں گے۔ میرا نہیں خیال کہ ڈی ڈی او ایس حملے دولتِ اسلامیہ کو کوئی بڑا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انانیمس کچھ شدت پسند فورمز کو نشانہ بنا رہے ہیں جو خفیہ معلومات کے حوالے سے اہم ہیں لیکن ہم ان فورمز کو آن لائن رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہم یہ دیکھ سکیں کہ وہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں اور اُن سے خفیہ معلومات حاصل کر سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے متعدد اکاؤنٹس کو انانیمس نامی تنظیم نے ہیک کرنے کا دعویٰ کیا ہے

گروپ کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلے ہی تیونیس میں ایک حملے کو ناکام بنانے میں مدد کر چکے ہیں جو اُن کے مطابق آن لائن جہادی ہرزہ گوئی جس میں اس بات کا اشارہ موجود تھا کہ شدت پسندوں کی جانب سے جیربا کے جزیرے کے ایک مخصوص مقام کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے کے بعد کیا گیا۔

گھوسٹ سکیورٹی گروپ کے مطابق یہ منصوبہ جون میں سمندر پر کیے جانے والے قتلِ عام کی طرز کا تھا جس میں 38 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا جن میں زیادہ تر برطانوی سیاح تھے۔ اطلاعات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ جربا جولائی میں دولتِ اسلامیہ کے اہداف کی فہرست میں واقعی شامل تھا۔ گروپ کی جانب سے کیے جانے والے دوسرے دعوؤں کے بعد اگرچہ اس بات کی تصدیق کرنا مشکل ہے کہ آیا انھوں نے ایک حملے کو ناکام بنایا تھا یا نہیں۔

مشاورتی سکیورٹی کرونوس ایڈوائزری کے چیف آپریٹنگ افسر مائیکل سمتھ جو گروپ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ انھوں نے اُن ٹویٹس کا سُراغ لگایا جن کا دولتِ اسلامیہ کے اکاؤنٹس کے درمیان تبادلہ ہوا تھا۔ گھوسٹ سکیورٹی گروپ کےممبران نے دیکھا اگرچہ بعض اوقات ٹویٹس محض چند لمحوں کے لیے ہی موجود رہتے ہیں جس کے بعد اُنھیں ہٹا دیا جاتا ہے۔ گروپ نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو اس طرح کے کچھ پیغامات کے سکرین شاٹس بھیجے جو انھیں شدت پسندوں کے اکاؤنٹس سے ملے تھے اور اب ٹویٹر اکاؤنٹس سے ہٹا دیے گئے ہیں۔

انانیمس کے کارکنوں نے اپنے مشن پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے ہیکنگ کے طریقہ کار کے ذریعے سے حقیقی طور پر دولتِ اسلامیہ کی نئی بھرتیوں کے عمل کو تباہ کر دیا ہے۔

انانیمس کے ایک کارکن نے بی بی سی ریڈیو فور ایس پروفائل کو بتایا کہ ’اس کے ذریعے اُن کی آپس میں بات چیت بند ہوگئی ہے۔ اس کے ذریعے سے نوجوان بچے جو کہیں اور نہیں جاسکتے یا وہ لوگ جو ذہنی طور پر بیمار ہیں اُن کو بھرتی کرنے کا عمل رُک گیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے ہم لوگوں پر صرف الزام تراشیاں ہی کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ اور بھی کام ہیں جو ہم کرتے ہیں۔‘

نومبر کے آغاز میں گروپ نے ’گھوسٹ سکیورٹی‘ سے اپنا نام ’گھوسٹ سکیورٹی گروپ‘ کر لیا اور اپنی ویب سائٹ کے پُرانے ورژن کو ترک کردیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ سوشل میڈیا کو بھی نوجوان طبقے تک رسائی حاصل کرنے میں استعمال کرتی ہے

حال ہی میں سمتھ نے بتایا کہ جہادی ٹویٹر سے دوسرے محفوظ سسٹمز کی طرف چلے گئے ہیں جیسے کہ پیغام رسانی کی ایک ایپ ٹیلی گرام لیکن گھوسٹ سکیورٹی گروپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان سسٹمز میں بھی خفیہ طور پر داخل ہوکر حملوں کے ذریعے سے اُن نیٹ ورکس کے آپس میں رابطوں کے عمل کو مشکل بنا دیا ہے۔

گروپ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ انھوں نے عوام پر زور دیا ہے کہ اُن کی ویب سائٹ کے ذریعے انھیں کسی بھی قسم کی مشتبہ سرگرمیوں کے متعلق مطلع کریں لیکن پیرس حملوں کے حوالے سے گروپ کی حالیہ کارروائیوں سے متعلق تفصیلات ظاہر نہیں کی جائیں گی کیوں کہ اُن کے مطابق ایسا کرنے سے انھیں خطرات سے دوچار ہونے کا خدشہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجود اکاؤنٹس کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں جن پر ان حملوں کے حوالے سے آپس میں بات چیت کی گئی ہو۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اگر مستقبل کے متعلق بات کی جائے تو’یقینی طور پر ہمیں اُمید ہے کہ ہم ایسا کوئی بھی واقعہ ہونے سے قبل ہی ان (شدت پسندوں) کا بھانڈا پھوڑ دیں گے۔‘

اسی بارے میں