ہانگ کانگ:’امبریلا سولجرز‘ کے سات امیدوار کامیاب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈاکٹر کوانگ کو 39 ووٹوں سے کامیابی حاصل ہوئی

ہانگ کانگ میں 2014 کی ’امبریلا‘ (چھتری) احتجاجی مہم کے بعد ہونے والے پہلے ضلعی انتخابات میں جہموریت کے حامی امیدواروں نے کونسلر کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

کم سے کم سات ’امریلا سولجرز‘ کے امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے، تاہم اس کے باوجود اقتدار کے توازن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور بیجینگ کے حامیوں کو اکثریت حاصل ہے۔

ہانگ کانگ کے 431 کونسلروں کو مشاورت میں بہت بڑا کردار حاصل ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ چینی حکام کے خلاف گذشتہ سال جمہوریت کے لیے ہونے والے احتجاج میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

سرگرم کارکنوں نے ہائی وے بند کر دی تھی اور ان کا مطالبہ تھا کہ انھیں سنہ 2017 میں ہونے والے انتخابات میں آزادی کے ساتھ اپنا لیڈر منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔

اتوار کو ہونے والے ان انتخابات میں تقریباً نو سو امیدواروں نے حصہ لیا تھا جن میں جمہوریت کے حامی امیدواروں کی تعداد 40 تھی۔

ان انتخابات میں ’امبریلا سولجرز‘ کی دو نوجوان اور مثالی امیدواروں نے پہلی مرتبہ حصہ لیا۔ایمرجنسی روم کی ڈاکٹر 29 سالہ کوانگ پو ین اور سابق منتظم 24 سالہ یوا وائی شنگ تھیں۔

ان دونوں کا مقابلہ پرانے اسٹیبلشمنٹ کے سیاستدانوں کے ساتھ تھا جن کے پاس زیادہ وسائل بھی تھے۔

مغربی ضلع وہیمپوا متوسط طبقے کا علاقہ ہے جہاں آٹھ ہزار رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔ ان انتخابات میں ٹرن آؤٹ 50 فیصد رہا جبکہ چار سال قبل ہونے والے انتخابات میں 41 فیصد رائے دہندگان نے ووٹ ڈالے تھے۔

تمام ووٹوں کی تین بار گنتی کے بعد ڈاکٹر کوانگ نے 39 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی جبکہ دوسری جانب یوا وائی شنگ کئی سو ووٹوں سے ہار گئیں۔

انتخابات جیتنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کوانگ نےکہا کہ ’امبریلا موومنٹ‘ نے انھیں ایک عام شہری سے ہانگ کانگ کے مستقبل کے لیے لڑنے والی ایک سیاستدان بنا دیا ہے۔

ہانگ کانگ کے سینٹر فار چائینا سٹڈیز سے منسلک ولی لام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایک حد تک امبریلا تحریک کی وجہ سے نئے ووٹر باہر آئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’تاہم مجموعی نتائج میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔‘

اسی بارے میں