شام میں فوج کی دولت اسلامیہ کے خلاف پیش قدمی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سرکاری میڈیا اور سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ روسی فوج کی قیادت میں اتحادی فوج نے ’ماہن‘ اور ’ہوارن‘ نے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے

شام میں اطلاعات کے مطابق شامی فوج نے ملک کے مغرب میں نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف پیش قدمی کرتے ہوئے دو قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا اور حقوق انسانی کے کارکنوں کے مطابق روس کے فضائی حملوں کی مدد سے فوج نے صوبہ حمص سے 65کلومیٹر دور جنوب شمال میں واقع ’مھين‘ اور’ حوارین‘ نامی قصبے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ صوبہ حمص میں دولت اسلامیہ کی پیش قدمی جاری

دولتِ اسلامیہ کی شامی باغیوں کے گڑھ کی جانب پیش قدمی

یہ دونوں قصبے دارالحکومت دمشق کو شمال میں واقع بڑے شہروں کو ملانے والی دفاعی اعتبار سے اہم موٹروے کے مشرق میں ہیں۔

پیر کو شام کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ثنا‘ کے مطابق فوج اور مقامی حکومت کی حامی ملیشیا نے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو تباہ کر کے ’مھين‘ اور’ حوارین‘کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

فوجی ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی بڑی تعداد ماری گئی ہے جب اس وقت فوجی وہاں نصب کیے گئے بموں کو ناکارہ بنا رہی ہے۔

خیال رہے کہ شامی کے اتحادی ملک روس کی جانب 30 ستمبر کو شام میں فضائی حملوں کے بعد سے شامی فوج نے کئی محاذوں پر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

روس کا موقف ہے کہ وہ ان حملوں میں صرف’ دہشت گردوں‘ کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ حقوق انسانی کے کارکنوں کے مطابق زیادہ تر حملوں میں مغرب کے حمایت یافتہ وہ باغی ہیں جو دولتِ اسلامیہ کی مخالفت کرتے ہیں۔

روس کا کہنا ہے کہ 30 ستمبر سے شام میں جاری اس کی کارروائی’دہشت گردوں‘ کے خلاف ہیں جبکہ حقوق انسانی کے کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ زیادہ تر حملوں میں ہدف مغرب کے حمایت یافتہ وہ جنگجو ہیں جو دولتِ اسلامیہ کے مخالف ہیں۔

اسی بارے میں