ہزاروں بچے رشتہ داروں یا احباب کی ہوس کا شکار ہوئے

Image caption انگلینڈ میں جنسی استحصال کا شکار بچوں میں 75 فیصد لڑکیاں ہیں

ایک مشاہدے کے مطابق جنسی استحصال کا شکار ہونے والے بچوں کی اکثریت اپنے ہی خاندان کے افراد یا احباب کی ہوس کا نشانہ بنتی ہے اور ایسے 85 فیصد تک واقعات رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔

انگلینڈ میں سنہ 2012 سے مارچ سنہ 2014 میں کم سے کم پچاس ہزار ایسے واقعات ہوئے لیکن بچوں کے امور سے متعلق کمشنر کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی اصل تعداد چار لاکھ پچاس ہزار ہے۔

برطانوی بچے ’بڑے پیمانے‘ پر جنسی استحصال کا شکار

برطانیہ: ’پولیس جنسی زیادتی روکنے میں ناکام‘

رپورٹ کے مطابق بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے اکثر اداروں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے لیکن ایسے واقعات زیادہ تر خاندانوں اور ان کے حلقۂ اعتماد میں پیش آتے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر غور کر رہی ہے کہ کس طرح سے استحصال کو روکا جا سکے۔

رپورٹ کے چیدہ چیدہ نکات

  • بچوں کے جنسی استحصال کے دو تہائی واقعات خاندان یا قریبی احباب کے ہاتھوں ہوئے۔
  • پچھتر فیصد متاثرہ لڑکیاں تھیں۔
  • استحصال کے واقعات نو برس کی عمر کے آس پاس ہوئے۔
  • ایسے متاثرہ بچوں نے نو عمری تک اس بات کا ذکر کسی سے نہیں کیا جب تک انھیں اس بات کا ادراک نہیں ہوا کہ در حقیقیت ان کے ساتھ کیا کِیا گیا۔
  • حتیٰ کہ بچے نے اگر کسی کو بتایا بھی دیا پھر بھی استحصال نہیں رکا۔
  • بچوں کی کمشنر این لانگفیلڈ کا کہنا ہے کہ جنسی استحصال کے حوالے سے زیادہ توجہ اداروں اور جرائم پیشہ گروہوں پر دی گئی۔
  • ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ہوش میں آنا ہو گا اور جنسی استحصال کی سب سے عام صورت کا مقابلہ کرنا ہوگا اور ہمارے گھروں کے دروازوں کے اندر، خاندانوں اور با اعتماد حلقے میں ہو رہا ہے۔‘
Image caption بچوں کی کمشنر نے اس حوالے سے فوری حکومتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے

بچوں کی کمشنر نے اس حوالے سے فوری حکومتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے بقول اس حوالے سے اساتذہ، سماجی کارکنوں، پولیس اور دیگر پیشہ ور افراد کی تربیت کی جائے تاکہ وہ ایسے استحصال کی جلد از جلد نشاندہی کرسکیں۔

کمشنر این لانگفیلڈ کا کہنا ہے کہ ’ایسے واقعات میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی نشانی ہوتی ہے۔ بچے یا تو کٹ جاتے ہیں یا ضرورت سے زیادہ جنسی رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اگر آپ بچے کو جانتے ہیں تو یقیناً یہ تبدیلیاں دکھائی دے جائیں گی۔‘

انگلینڈ میں بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے اس رپورٹ میں مخلتف ذرائع سے معلومات شامل کی گئی ہیں جن میں پولیس اور مقامی کونسل کی معلومات کے علاوہ جنسی استحصال کا شکار ہونے والے سے 750 زائد بچوں سے کیا گیا سروے بھی شامل ہے۔

نورفلوک کے چیف کانسٹیبل سیمن بیلے ملک بھر میں بچوں کے تحفظ اور جنسی استحصال کے معاملات کو دیکھتے ہیں ان کا کہنا ہے ’ یہ اعداد و شمار حیران کن ہے لیکن یہ میرے لیے اچنبھے کی بات نہیں ہے۔‘

’میں نے اکثر اس بارے میں بات کی ہے کہ بچوں کے استحصال کے رپورٹ کیے جانے والے واقعات بہت کم ہیں۔‘

انھوں نے تسلیم کیا کہ ’گو کہ پولیس نے بچوں کے استحصال کے معاملات سے نمٹنے میں کافی بہتری آئی ہے تاہم اب بھی بہت کام ہونا باقی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سنہ 2012 میں جمی سیول کی روداد بالخصوص پولیس کے لیے اور اب یہ تازہ اعداد و شمار بچوں کے تحفظ کے حوالے سے پولیس سمیت تمام اداروں کے لیے اہم موڑ ثابت ہوئے ہیں۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption بچوں کے جنسی استحصال کے زیادہ تر واقعات خاندانوں کے اندر اور ان کے حلقۂ اعتماد میں پیش آتے ہیں

رپورٹ میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات سے بچنے کے لیے حکومت ایک بڑا لائحہ عمل تیار کرنے کا مطالبہ کیا۔

  • بچوں کے حوالے سے کام کرنے والوں کی ذمہ داریاں بڑھائی جائیں
  • پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو سکولوں میں محفوظ اور صحت مند تعلقات کے حوالے سے لازمی تعلیم دی جائے۔
  • بچوں کو سکھایا جائے کہ اگر انھیں استحصال کا خطرہ ہو تو وہ کسی ایک با اعتماد بڑے کو یہ سب بتائیں۔
  • اساتذہ کو استحصال کا شکار بچوں کی نشاندہی اور اس پر ردِ عمل دینے کی تربیت دی جائے۔
  • استحصال کے اظہار کیے جانے کے بعد بچوں کی حمایت کی جائے اور بچوں کو مناسب ماہر نفسیات فراہم کیا جائے۔
  • اس بات کو یقینی بنایا جائے کے پولیس بچوں کے استحصال سے متعلق تمام جرائم کا ریکارڈ رکھے۔

محکمۂ تعلیم کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کی تجاویز پر محتاط طریقے سے غور کیا جائے گا۔

محکمے کے مطابق اس نے بچوں کے تحفظ کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی ہے تاکہ پولیس، سکولوں، سماجی خدمات اور دیگر محکموں میں جرائم کی روک تھام کے لیے بہتری لائی جائے۔

بچوں کے حوالے سے سکاٹ لینڈ ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے کمشنرز کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں اعداد و شمار اتنے زیادہ نہیں ہیں۔

اسی بارے میں