مصر کے ہوٹل پر مسلح افراد کا حملہ، چار افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہوٹل کے گارڈز نے بارود سے بھری گاڑی پر گولی چلا دی جو بعد میں دھماکے سے پھٹ گئی

مصر میں حکام کا کہنا ہے کہ شمالی سینا کے علاقے میں ایک ہوٹل پر دو خود کش حملہ آوروں اور بندوق بردار کے حملے میں کم سے کم چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

صوبائی دارالحکومت العارش کے سوئس اِن ہوٹل پر حملے کرنے والے تینوں حملہ آووروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

’شدت پسندی، خطے کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ہے‘

جزیرہ نما سینا سے 3200 خاندان بے دخل

ہوٹل کے گارڈز نے بارود سے بھری گاڑی پر گولی چلا دی جو بعد میں دھماکے سے پھٹ گئی لیکن دو حملہ آور ہوٹل میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے جنھوں نے ایک جج کو قتل کر دیا۔

دولتِ اسلامیہ سے الحاق کرنے والے سینا کے مقامی شدت پسند گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

فوجی بیان کے مطابق حملے میں 12 افراد زحمی بھی ہوئے ہیں۔

تینوں حملہ آور بارود سے بھری گاڑی لے کر آئے جس پر سکیورٹی گارڈز نے فائرنگ کر دی۔

اس کے بعد دو حملہ آور عمارت میں داخل ہو گئے ایک نے باروچی خانے میں خود کش حملہ کیا جبکہ دوسرے نے ایک کمرے میں جا کر گولیاں مار کر جج کو ہلاک کر دیا۔

یہ جج علاقے میں پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کرنے والے مبصرین میں شامل تھے۔

ملک کی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ’اس طرح کی ظالمانہ کارروائی سے حکومت کو اپنے اداروں سے نہیں روک سکتی اور اس کارروائی سے وزارتِ داخلہ کے ان ارادوں کو تقویت ملی ہے جس میں وہ شمالی سینا میں دہشت گردی کی جڑ کو کاٹنا چاہتی ہے۔‘

گذشتہ ماہ ایک روسی مسافر طیارہ سینا میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 224 افراد ہوئے تھے۔

روس کا کہنا تھا کہ جہاز میں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دہشت گردی کی کارروائی تھی۔

سینا میں برسوں سے جنگجوں مصری حکومت کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں اور اس بغاوت میں سنہ 2013 میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں