اوباما، اردوگان رابطہ، کشیدگی کم کرنے پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روس اور ترکی درمیان روسی جنگی طیارہ مار گرانے کے بعد امریکی صدر براک اوباما اور ترکی کےصدر طیب اردوگان کے درمیان بات ہوئی ہے جس میں کشیدگی کم کرنے کا اعادہ کیا گیا ہے۔

ترکی کے صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنما کشیدگی کم کرنے کے علاوہ ایسے واقعات کے دوبارہ نہ ہونے کے لیے اقدامات کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس قسم کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔‘

ترکی نے روسی جیٹ مار گرایا: کب کیا ہوا

کیا ترکی کا رد عمل مناسب تھا؟

دہشت گردوں کے حامیوں نے دھوکہ دیا: پوتن

یاد رہے کہ ترک فضائیہ نے منگل کو فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ایک روسی جنگی طیارے کو مار گرایا تھا۔

اس واقعے کے بعد امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ ترکی کو اپنی سرزمین اور فضائی حدود کا دفاع کرنے کا حق ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ حالیہ واقعہ ان مسائل کی جانب اشارہ کرتا ہے جو شام میں روسی فوجی کارروائیوں کے باعث پیدا ہو رہے ہیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ اس واقعے کی تفصیلات جاننا ضروری ہیں اور ایسے اقدام کیے جاییں جس سے کشیدگی میں کمی واقع ہو۔

تاہم امریکہ اور نیٹو کی جانب سے کس ملک کی فضائی حدود میں جہاز کے گرائے جانے کے بارے میں متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکہ اس وقت حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ مار گرائے جانے والا روسی طیارہ کس ملک کی فضائی حدود میں موجود تھا۔

پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کُک نے کہا ’امریکی حکام اس وقت حتمی طور پر روسی طیارے کی پوزیشن کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

تاہم نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ واقعے کے حوالے سے اتحادیوں کے تجزیے کے مطابق روسی جنگی جہازوں نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔

اسی بارے میں