’چاقو کے حملے دہشت گردی ہے‘ جان کیری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جان کیری کا یہ اسرائیل اور فلسطین کا ایک روزہ دورہ ہے

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نےمنگل کو اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا ایک روزہ دورہ شروع کیا اور فلسطینیوں کی طرف سے چاقو کے حملوں اور گاڑیاں چڑھانے کے واقعات کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان مذمت ضروری ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو سے ملاقات سے قبل جان کیری نے کہا کہ وہ ایسے طریقوں پر غور کریں گے جن پر مشترکہ طور پر عمل کر کے وہ حالات کو معمول پر سکیں۔

مشرق وسطیٰ میں فلسطینیوں کی علیحدہ ریاست کے قیام کے لیے امریکہ کی نگرانی میں ہونے والے امن مذاکرات سنہ 2014 سے تعطل کا شکار ہیں اور اس تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ دہشت ناک حملوں کے بند ہوئے بغیر امن مذاکرات بحال نہیں ہو سکتے۔

جن کیری اور نتن یاہو کی یروشلم میں ملاقات سے تھوڑی دیر پہلے ایک فلسطینی نے مقبوضہ غرب اردن میں اپنی گاڑی تین اسرائیلی فوجیوں اور ایک نیم فوجی پولیس اہلکار پر چڑھا دی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق چاروں اہلکار زخمی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ڈرائیور کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔

نتن یاہو کے ساتھ کھڑے ہو کر بات کرتے ہوئے جان کیری نے کہا ’یہ بہت واضح ہے کہ دہشت گردی کے یہ واقعات جو پیش آ رہے ہیں اسی مذمت کے قابل ہیں جیسے کہ ان کی ہو رہی ہے۔‘

کیری نے مزید کہا کہ ’آج میں اپنی طرف سے ہر ایسے عمل کی شدید مذمت کرتا ہوں جس سے معصوم جان ضائع ہوتی ہے یا جو قوم کی روز مرہ زندگی میں خلل ڈالتا ہے۔‘

امریکی وزیر خارجہ کی غرب اردن کے علاقے رام اللہ میں آج فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فلسطین مقبوضہ علاقوں میں خون ریزی کا یہ تازہ سلسلہ اسرائیل کی طرف سے یہودیوں کے مسجد اقصیٰ کے دوروں میں اضافے کے بعد شروع ہوا تھا

محمود عباس اور دیگر فلسطینی رہنماؤں نے اسرائیل پر ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے واقعات میں حملہ آوروں کو گولی مار کے ہلاک کرنے کے بجائے روکا اور پکڑا جا سکتا تھا۔

انھوں نے تشدد کے واقعات کو اسرائیلی قبضے اور اسرائیلی کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

اس سال اکتوبر سے لے کر اب تک ایک امریکی شہری اور 19 اسرائیلی ان حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ اسرائیل کی فوج اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں اور ان پر حملے کرنے کے واقعات کے دوران 86 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں خواتین کے علاوہ بیشتر نو عمر لڑکے تھے۔

فلسطین مقبوضہ علاقوں میں خون ریزی کا یہ تازہ سلسلہ اسرائیل کی طرف سے یہودیوں کے مسجد اقصیٰ کے دوروں میں اضافے کے بعد شروع ہوا تھا۔

اسی بارے میں