فرانسو اولاند کو اتحادیوں کی تلاش

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کو ایک روشن دن باٹاکلان کا دورہ کروایا۔

پیرس میں نجی گفتگو اور عوامی بیانات کے علاوہ ڈیوڈ کیمرون کے لیے اس خاموش عمل کی حیثیت بہت سے بیانات سے زیادہ اہم تھی۔

اپنے میزبان کے ہمراہ انھوں نے باٹاکلان کے تھیٹر کے باہر عارضی یادگار پر ایک سفید پھول رکھا جہاں 13 نومبر کو ہونے والے حملے میں 89 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں ایک برطانوی شہری بھی شامل تھا۔

پیرس سے ایک اور ’دھماکہ خیز بیلٹ‘ برآمد

’ہم سے دہشت گردوں جیسا سلوک ہو رہا ہے‘

فرانس کے دولتِ اسلامیہ کے خلاف تیز تر فضائی حملے

فرانسوا اولاند کو اپنے اتحادیوں سے علامتی یکجہتی سے زیادہ تعاون درکار ہے۔

فرانس کے صدر گذشتہ دس دنوں کے دوران کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف ’حالتِ جنگ میں ہے‘ اور یہی وجہ ہے کہ فرانس نے شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف اپنی فضائی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

فرانسوا اولاند یہ بات جاننا چاہتے ہیں کہ ان کا اتحادی ملک برطانیہ اس حوالے سے ان کی کتنی مدد کرتا ہے؟

یورپ کے دو بڑے فوجی اتحادیوں نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف عراق میں فضائی کارروائی کی ہے اور برطانوی افواج نے انٹیلیجنس اور شام کی فضاوں میں جنگی طیاروں کو ایندھن کی فراہمی میں فرانس کی مدد کی ہے تاہم برطانوی پارلیمان نے رائل ایئر فورس کے طیاروں کو شام میں فضائی کارروائی کی ابھی منظوری نہیں دی۔

فرانسیسی صدر کو امید ہو گی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے گذشتہ ہفتے ایک قرار داد کی منظوری کے بعد جس میں رکن ممالک پر زور دیا گیا تھا کہ وہ عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کو ختم کرنے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کریں ڈیوڈ کیمرون کے اندازوں میں تبدیلی آ گئی ہو گی اور وہ اپنی پارلیمان سے اس سلسلے میں منظوری کے لیے رجوع کریں گے۔

ڈیوڈ کیمرون آئندہ ہفتے برطانوی پارلیمان کو اس حوالے سے جامع منصوبہ پیش کرنے والے ہیں تاہم انھوں نے فرانسوا اولاند کے دولتِ اسلامیہ کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے موقف کی تائید کی ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے فرانسیسی صدر کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا ’یہ میرا پختہ یقین ہے کہ برطانیہ کو ایسا کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے فرانس کو قبرص میں قائم برطانوی فوجی اڈہ استعمال کرنے کی پیش کش بھی کی تھی۔

فرانسیسی صدر کی طرف سے سفارتی کاری کے ہفتے کا یہ آغاز ہے۔ ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے بعد فرانسوا اولاند واشنگٹن جائیں گے جہاں وہ امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کریں گے۔

فرانسوا اولاند بدھ کو فرانس واپس آنے سے پہلے جرمن چانسلر آنگیلا میرکل سے بھی ملاقات کریں گے۔

اگرچہ ان ملاقاتوں میں نسبتاً مختلف پہلوؤں پر غور کیا جائے گا تاہم یورپی رہنما انٹیلیجنس اور ڈیٹا شیرنگ کو مزید بہتر بنانے پر زور دے رہے ہیں۔

فرانس اور بیلجیئم کی سکیورٹی افواج کو ان انکشافات کے بعد کہ پیرس حملے کے اہم مشتبہ افراد ان حملوں سے پہلے اور بعد میں آزادانہ گھومتے رہے شرمساری کا سامنا ہے۔

فوجی اور تکنیکی معاونت کے بارے میں جاری اس ساری بحث پر حاوی مقصد شام کے بحران کا سیاسی حل ہے جس سے شدت پسندوں کے علاقے اور ان کے مالی وسائل ختم ہو سکتے ہیں۔

فرانسوا اولاند اور ولادیمر پوتن کے درمیان جمعرات کو ہونےوالی ملاقات کا مرکزی نکتہ بھی یہی ہو گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ فرانس روس سے اپنے درینہ اور تاریخی تعلقات، نیٹو میں اپنی رکنیت اور مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی کے باعث ایسی منفرد پوزیشن میں ہے جو بحران کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور اس کی داخلی سلامتی بھی بہتر ہو سکتی ہے۔

اس دوران فرانسیسی صدر کے دماغ پر دیگر کئی امور بھی سوار ہوں گے جن میں ماحولیات کے بارے میں عالمی کانفرنس کا انعقاد سب سے کم پریشان کن ہو گا۔ ان میں فرانس میں ہونے والے مقامی انتخابات بھی ہیں جن میں حکمران جماعت کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اس دوڑ میں تیسرے نمبر پر ہے۔

لیکن صدر اولاند کے لیے کچھ اطمینان ان کے مقبولیت کے گراف میں آٹھ فیصد کا اضافہ ہے اور جو اس اضافے کے ساتھ اب 30 فیصد پر آ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اسے برقرار رکھ پائیں گے کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ معیشت پھر توجہ کا مرکز بن جائے گی۔

اس صورت حال پر ایک اخبار نے اپنے ایک مضمون میں اس ہفتے یوں تبصرہ کیا ہے کہ اپنے عہدے کی مدت کے پہلے تین برس میں اولاند سازگار موسم میں ایک برے کپتان، لیکن ناسازگار حالت میں ایک اچھے اور سخت قائد کی طرح ابھر کے سامنے آئے ہیں۔

اسی بارے میں