شکاگو کے سیاہ فام نوجوان کی ہلاکت کی ویڈیو جاری

Image caption افریقی نژاد امریکیوں پر امریکی پولیس کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال ملک گیر احتجاج کا موضوع ہے

امریکی حکام نے پولیس کار کے کیمرے سے بنائی گئی وہ ویڈیو جاری کی ہے جس میں امریکی ریاست الینوائے کے شہر شکاگو میں ایک سفید فام پولیس اہلکار کو سیاہ فام نوجوان پر گولیاں چلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

17 سالہ سیاہ فام لیکوئن میکڈونلڈ کو 16 گولیاں مار کر ہلاک کرنے والے سفید فام پولیس افسر پر جیسن وین ڈائیک قتلِ عمد کے الزام کے تحت مقدمہ چلے گا۔

’سیاہ فام شخص کے ہاتھوں میں ہتھکڑی نہیں تھی‘

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لیکوئن پولیس اہلکاروں سے دور جانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر اہلکار اس پر گولی چلا دیتا ہے۔

ملزم پولیس اہلکار کے مطابق نوجوان نے اپنے ہاتھ میں موجود چُھری پھینکنے سے انکار کر دیا تھا اور انھیں اس سے خطرہ محسوس ہوا تھا۔

جیسن وین ڈائیک نے اپنے وکیل اور پولیس یونین کے ذریعے کہا ہے کہ انھیں اپنی زندگی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں۔

ویڈیو جاری ہونے کے بعد فسادات پھوٹنے کے خدشے کے پیشِ نظر شکاگو کے میئر رام ایمونیئل نے شہریوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

کئی ماہ سے افریقی نژاد امریکیوں پر پولیس کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال ملک گیر احتجاج کا موضوع ہے۔

شکاگو کے حکام اس ویڈیو کے جاری ہونے کے بعد ممکنہ مظاہروں کے لیے خود کو تیار کررہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملزم پولیس اہلکار کے مطابق نوجوان نے اپنے ہاتھ میں موجود چُھری پھینکنے سے انکار کر دیا تھا اور انھیں اس سے خطرہ محسوس ہوا تھا

پیر کی رات منیاپولس میں ایسے ہی ایک مظاہرے کے دوران تشدد کے بعد صورتحال اس وقت بگڑی جب تین سفید فام افراد کی جانب سے ایک ریلی پر فائرنگ شروع کردی گئی جس کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

شکاگو کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ میکڈونلڈ کی کمر میں کم از کم دو بار گولی ماری گئی۔

ریاستی وکیل انیتا الوریس کا کہنا ہے کہ پولیس افسر کی جانب سے نوجوان کو ہلاک کرنے کا کوئی ٹھوس جواز موجود نہیں تھا۔

کیوں کہ اُن کے مطابق سنہ 2014 میں جب یہ واقع پیش آیا اور میکڈونلڈ کو پولیس کی جانب سے روکا گیا تو اُن کے ہاتھ میں ایک چُھری موجود تھی لیکن وہ اس چھری سے نہ ہی پولیس کو دھمکا رہے تھے اور نہ ہی پولیس کی جانب بڑھ رہے تھے۔

وکیل نے مزید بتایا کہ وین ڈائیک نے وہاں پہنچنے کے لمحوں بعد ہی اُس نوجوان پر گولیاں برسانا شروع کردی اور اُس وقت تک برساتے رہے جب تک میکڈونلڈ زمین پر نہ گرگئے۔

شکاگو کی پولیس یونین نے اس ویڈیو کے اجرا کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ویڈیو جیوری کے فیصلے پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

شکاگو پولیس کا کہنا ہے میکڈونلڈ نے چُھری سے پولیس افسران کو دھمکایا اور گشت پر موجود پولیس کی ایک گاڑی کے پہیوں اور کھڑکیوں پر اس چُھری کی مدد سے ضربیں بھی لگائیں۔

اسی بارے میں