ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلمان میرین کا جواب

Image caption طیب رشیدنے اپنے بحری شناختی کارڈ کی تصویر ٹوئٹر پر لگاتے ہوئے ڈانلڈ ٹرمپ سے کہا: ’میں ایک امریکی مسلمان ہوں اور میں پہلے سے ہی ایک خاص شناختی کارڈ لیے پھرتا ہوں، آپ کا شناختی کارڈ کہاں ہے؟‘

ایک مسلمان سابق بحری اہلکار نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنا بحری شناختی کارڈ لگا کر ایک جرات مندانہ موقف اختیار کیا ہے۔

انھوں نے بی بی سی ٹرینڈنگ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ٹویٹ کے بعد آگے کیا ہوا۔

’پیرس ہی نہیں انسانیت کے لیے دعا کریں‘

’ہم سے دہشت گردوں جیسا سلوک ہو رہا ہے‘

طیب رشیدنے اپنے میرین شناختی کارڈ کی تصویر امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک انٹرویو کے بعد لگائی تھی۔

مسٹر ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ مسلمانوں پر خصوصی سکیورٹی اور نگرانی کے اقدامات لاگو کرنے کے حق میں ہیں۔

اس انٹرویو کے بعد طیب رشیدنے اپنے میرین شناختی کارڈ کی تصویر ٹوئٹر پر لگاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا: ’میں ایک امریکی مسلمان ہوں اور میں پہلے سے ہی ایک خاص شناختی کارڈ لیے پھرتا ہوں، آپ کا شناختی کارڈ کہاں ہے؟‘

اس ٹویٹ کے بعد دیگر لوگوں نے بھی ٹوئٹر پر اپنے شناختی کارڈ ایک ہیش ٹیگ MuslimID# کے ساتھ لگانا شروع کر دیے۔

اس ہیش ٹیگ کو گذشتہ تین دن سے 10 ہزار سے بھی زیادہ مرتبہ استعمال کیا جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tayyib Rashid
Image caption 38 سالہ طیب رشید نے امریکی میرینز میں پانچ سال کے لیے اپنی خدمات انجام دی تھیں

مسٹر رشید نے اپنی ٹویٹ کے رد عمل کے بارے میں کہا: ’میں سمجھا تھا کہ اُسے تھوڑے بہت لائکس تو مل ہی جائیں گے لیکن مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ یہ ٹویٹ وائرل ہو چکی ہے۔‘

یہ تنازع تب شروع ہوا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویب سائٹ ’یاہو نیوز‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں مسلمانوں کے متعلق یہ بات کہی۔

انٹرویو کے دوران جب ایک صحافی نے انھیں تجاویز پیش کیں کہ مسلمانوں کو ڈیٹا بیس میں اپنی رجسٹری کروانی چاہیے یا مسلمان شناختی کارڈ رکھنے چاہیں تو مسٹر ٹرمپ نے ان کی تجاویز کو مسترد نہیں کیا۔

مسٹر ٹرمپ نے رد عمل میں کہا: ’ہمیں کافی چیزیوں کو بہت دھیان سے دیکھنا ہوگا۔ ہمیں مساجد کو دھیان سے دیکھنا ہوگا۔ ہمیں بہت احتیاط سے دھیان دینا ہوگا۔‘

مسٹر رشید کہتے ہیں کہ انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصروں کے بارے میں کچھ دوستوں سے سنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter Shiz006
Image caption رشید کی ٹویٹ کے بعد امریکہ کے مسلمان پولیس اہلکار، وکلا اور ڈاکٹروں نے بھی ٹوئٹر پر ہونے والی گفتگو میں شمولیت اختیار کر لی

انھوں نہ کہا: ’میں نے جواب میں فوری طور پر ایک ٹویٹ بھیج دی۔ اس کے بعد چھڑنے والی گفتگو میں پولیس اہلکار، وکلا اور ڈاکٹروں نے بھی شمولیت اختیار کر لی تھی۔‘

اسی بارے میں