برسلز کے سکول اور میٹرو سٹیشن دوبارہ کھل گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کم سے کم پیر تک قائم رہنے کا امکان ہے

پیرس حملوں کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر بند رہنے والے برسلز کے سکول اور بیشتر میٹرو سٹیشن دوبارہ کھل گئے ہیں۔

تاہم بیلجیئم کے دارالحکومت میں سکیورٹی اب بھی ہائی الرٹ پر ہے جہاں سینکڑوں مسلح پولیس اہلکار اور فوجی گشت کر رہے ہیں۔

’اباعود محاصرے کے وقت بتاکلان کے پاس موجود تھا‘

بیلجیئم میں آپریشن،’16 گرفتار، صالح کی تلاش جاری‘

یورپ کو پیرس جیسے حملوں کا کتنا خطرہ ہے؟

حکام کا کہنا ہے کہ وہاں بھی پیرس کی طرز کے حملے ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ بیشتر حملہ آور برسلز میں ہی مقیم تھے۔

فرانس کا کہنا ہے کہ پیرس میں ہونے والے حملوں میں کم سے کم 130افراد ہلاک ہوئے جبکہ برسلز میں مقیم حملہ آووروں میں سے ایک پیرس حملوں کا منصوبہ ساز تھا۔

تیرہ نومبر کو ہونے والے ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔ بیلجیئم میں کم سے کم پانچ افراد پر ان حملوں سے تعلق کے شبہے میں دہشت گردی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برسلز میں بدھ کو سکول دوبارہ کھل گئے ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی جاری ہے تاہم بعض میٹرو لائنز ابھی بھی بند ہیں

برسلز میں بدھ کو سکول دوبارہ کھل گئے ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی جاری ہے۔ تاہم بعض میٹرو لائنز ابھی بھی بند ہیں۔

شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کم سے کم پیر تک قائم رہنے کا امکان ہے۔

بیلجیئم کے وزیرِ خارجہ ڈائڈر رینڈرز کا کہنا ہے کہ حکام کم سے کم دس مشتبہ حملہ آووروں کی تلاش میں ہیں جنہوں نے ممکنہ طور پر شاپنگ سنٹرز پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

اسی اثنا میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پیرس میں ہونے والے حملوں کا مبینہ منصوبہ ساز عبدالحمید اباعود پولیس کی جانب سے بتاکلان تھیٹر کے محاصرے کے وقت اس علاقے میں موجود تھا۔ حکام کے مطابق فون کے ریکارڈز بتاتے ہیں کہ عبدالحمید حملے کے بعد اس علاقے میں بھی گیا جہاں کیفے اور ریستورانوں کو نشانہ بنایا گيا تھا۔

تفتیش کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد ہیں کہ اگر انھیں سان ڈنی میں گھیر کر مار نہ دیا گيا ہوتا تو وہ بدھ اور جمعرات کو لا ڈیفنس کے تجارتی ضلعے میں خودکش بم حملے کا منصوبہ رکھتے تھے۔

اسی بارے میں