’رقّہ نے اپنی روح کھو دی ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

نور شام کے شہر رقّہ کی رہائشی ہیں جہاں اب دولت اسلامیہ کا پرچم لہراتا ہے۔

وہ کسی طرح رقہ سے نکل کر یورپ پہنچنے میں کامیاب رہیں جہاں وہ تارکِ وطن کے طور پر دن کاٹ رہی ہیں۔ بی بی سی سے ملاقات میں انھوں نے اپنی اور اپنی ان دو بہنوں کی کہانی بی بی سی کو بتائی جو اب بھی رقہ میں ہی ہیں۔

نور اور ان کے خاندان کی حفاظت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کے نام اور کچھ واقعات کے وقت تبدیل کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

وہ بتاتی ہیں ’ہم تین بہنیں رقہ میں رہتی تھیں۔ رقہ شہر کی شناخت ایسے شہر کی طور پر تھی جہاں خواتین کا اثر و رسوخ بہت زیادہ تھا۔ اگر آپ اس شہر میں کچھ چاہیے ہوتا تو آپ کو ایک خاتون سے بات کرنی ہوتی تھی۔ دولت اسلامیہ نے یہ صورت حال بدل دی۔ ان کی وجہ سے ہمیں اپنے چہرے ڈھکنے پڑے۔ انہوں نے ہم سے کہا کہ ہم پتلون نہ پہنیں۔ کسی ایسے مرد کے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں جو ہماری ذمہ داری لے سکے۔‘

Image caption نور کہتی ہیں کہ میری چھوٹی بہن کی عمر 20 برس کے قریب ہے۔ وہ گھر سے باہر نکلنے میں ڈرتی ہے۔ وہ پورے دن میری ماں کے ساتھ بیٹھی رہتی ہے
Image caption نور کے مطابق ہماری سہیلیوں کو فوجیوں سے شادی یا ان کی جسمانی ضروریات پوری کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔ انہوں نے پھر ایسی خواتین کو حالت حمل میں تنہا چھوڑ دیا

نور کے مطابق ’ہماری سہیلیوں کو فوجیوں سے شادی یا ان کی جنسی ضروریات پوری کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔ انہوں نے پھر ایسی خواتین کو حاملہ حالت میں تنہا چھوڑ دیا۔‘

نور بتاتی ہیں ’داعش نے خواتین پر مشتمل ایک اسلامک پولیس فورس تشکیل دی۔ وہ ہم پر نظر رکھتی تھیں۔ وہ ہمیں پریشان کرتی تھیں اور بھدّے طریقے سے ہماری تلاشی لیتی تھیں۔ وہ عربی کی جگہ کسی دوسری زبان میں بات کرتی تھیں۔ میری بڑی بہن کے سسرال والوں نے اس کی شکایت کی تو پولیس نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ وہ پھر کبھی نہیں ملیں۔‘

نور نے بتایا ’وہ ان خواتین کے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا کرتے ہیں جو ان کی سیاست کو چیلنج کرتی ہیں۔ وہ انہیں ایسی جگہ چھوڑ دیتے ہیں جہاں جنگلی جانور ان کو زندہ کھا جاتے ہیں۔‘

نور کہتی ہیں ’میری چھوٹی بہن کی عمر 20 برس کے قریب ہے۔ وہ گھر سے باہر نکلنے میں ڈرتی ہے۔ وہ پورے دن میری ماں کے ساتھ بیٹھی رہتی ہے۔‘

Image caption ہر عورت سوچتی ہے کہ کاش یہاں بغاوت نہ ہوئی ہوتی۔ وہ تو آزادی چاہتی تھیں لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ رقّا میں اب ہر طرف اجنبی نظر آتے ہیں۔ رقّا نے اپنی روح کھو دی ہے

نور کا کہنا ہے کہ وہ کبھی رقہ نہیں چھوڑیں گے۔ وہ کبھی ریڈیو نہیں سنتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا ’ کیا میں نے آپ کو بتایا کہ میں ایک ماں بھی ہوں۔ میرا بیٹا آٹھ سال کا ہے۔ مجھے لگتا تھا کہ وہ پارک جا رہا ہے۔ لیکن اس وقت مولوی اس کے دماغ میں زہریلی چیزیں ڈال رہے تھے۔ انھوں نے اس کی سوچ بدل دی۔ میں نے جب اپنے بیٹے کہا کہ ایسے لوگوں سے بات کرنا بند کر دینا چاہیے تو وہ مجھ پر چلانے لگا۔ اس نے کہا ’آپ کافر ہو، آپ خنزیر ہو۔‘

نور مانتی ہیں کہ ان کا بیٹا ایسا نہیں ہے۔ لیکن اسے ان کے خلاف بھڑکایا گیا ہے۔

نور کہتی ہیں ’ہر عورت سوچتی ہے کہ کاش یہاں بغاوت نہ ہوئی ہوتی۔ وہ تو آزادی چاہتی تھیں لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ رقہ میں اب ہر طرف اجنبی نظر آتے ہیں۔ رقہ نے اپنی روح کھو دی ہے۔‘

اسی بارے میں