خواتین کیوں ٹرک ڈرائیور نہیں بنتیں؟

Image caption پاکستان کی شمیم اختر ملک کی واحد خاتون ٹرک ڈرائیور ہیں

جب بات کسی عورت کے ٹرک چلانے کی آئے تو ردعمل دنیا بھر میں ایک سا ہی نظر آتا ہے۔ انھیں نہ صرف عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے بلکہ کبھی تو مذاق کا نشانہ بھی بننا پڑتا ہے۔

لوگ امید نہیں کرتے کہ خواتین اس شعبے کا انتخاب کریں گی، اور اکثر ہوتا بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن وہ کیوں اس کا انتخاب نہ کریں؟

100 خواتین: خصوصی ضمیمہ

اب اس کام کے لیے بہت زیادہ طاقت کی ضرورت بھی نہیں رہی اور جو خواتین ٹرک چلا رہی ہیں وہ کہتی ہیں کہ انھیں یہ کام پسند ہے۔

28 سالہ نیٹلی ٹِپسٹن کا تعلق شمال مشرقی انگلینڈ سے ہے، لیکن ٹرک چلانے کا ان کا تجربہ اتنا منفرد بھی نہیں ہے۔

’جب میں سڑک پہ ہوتی ہوں اور کوئی ویگن پاس سے گزرتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا میرے تین سر ہوں، کیونکہ وہ اتنی ہی حیرت سے میری جانب بار بار دیکھتے ہیں۔ ’ارے! ایک عورت ٹرک چلا رہی ہے؟‘‘

پاکستان کی شمیم اختر ملک کی واحد خاتون ٹرک ڈرائیور ہیں اور دارالحکومت اسلام آباد کے کچھ لوگوں کے نزدیک ایک خاتون کے لیے اس شعبے کا انتخاب کرنا نہ صرف عجیب ہے بلکہ ’غیر اخلاقی‘ بھی ہے۔

ایک شخص نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے نزدیک ایک خاتون ہونے کی حیثیت سے انہیں یہ شعبہ زیب نہیں دیتا۔ یہ ایک بہت مشکل اور سخت کام ہے۔ وہ اگر چاہیں تو کوئی دوسرا کام کرسکتی ہیں۔ اور اگر وہ ڈرائیونگ ہی کرنا چاہتی ہیں تو شائد انھیں چھوٹی گاڑی چلانی چاہیے۔‘

Image caption 28 سالہ نیٹلی ٹِپسٹن کا تعلق شمال مشرقی انگلینڈ سے ہے، لیکن ٹرک چلانے کا ان کا تجربہ اتنا منفرد بھی نہیں

برطانیہ میں سامان کی نقل و حمل کرنے والے بڑے ٹرک چلانے والوں میں خواتین کی شرح 1.2 فیصد ہے، اور تقریباً یہی حال پورے یورپ کا ہے۔

ٹرک یا لاری چلانا اب بھی ایک مردانہ پیشہ سمجھا جاتا ہے اور کوئی بھی خاتون اگر اس شعبے میں قدم رکھتی ہے تو اسے کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

نیٹلی کہتی ہیں ’آپ کو بہت سخت جان ہونا پڑتا ہے۔ آپ کو بے خوف اور ثابت قدم بھی ہونا چاہیے۔ یہ سب اس لیے کیونکہ آپ ایک مردانہ ماحول میں کام کر رہی ہیں اور آپ کو طنزیہ گفتگوکا بھی سامنا کرنا ہوگا۔‘

وہ کہتی ہیں ’خواتین کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس قسم کے کام صحیح طریقے سے انجام نہیں دے سکتی ہیں۔ میرے خیال میں بہت سی ایسی خواتین ہیں جو بہت اچھی ڈرائیونگ کر سکتی ہیں لیکن خود ہی اس خیال کو رد کردیتی ہیں۔ وہ خود ہی یہ نتیجہ اخذ کرلیتی ہیں کہ کیونکہ وہ خاتون ہیں اس لیے اس کام میں وہ مہارت حاصل نہیں کر سکتیں یا پھر اتنا جلد نہیں سیکھ سکتیں جتنی جلدی مرد حضرات ماہر ہو جاتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’یہ بالکل بیکار بات ہے۔ میں نے آج تک جتنا بھی کام کیا ہے، ایسی کوئی بات نہیں دیکھی۔‘

Image caption برطانیہ میں سامان کی نقل و حمل کرنے والے بڑے ٹرک چلانے والوں میں خواتین کی شرح 1.2 فیصد ہے

دوسری جانب شمیم کہتی ہیں کہ ٹرک چلانے کا لائسنس ملنے کے بعد سے ان چند مہینوں میں ان کے ساتھ کام کرنے والے مردوں نے انھیں بطور ٹرک ڈرائیور تسلیم کر لیا ہے اور جب کبھی ان کا ٹرک خراب ہوجاتا ہے تو وہ بخوشی مدد کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

شمیم بتاتی ہیں کہ ’کچھ لوگ آ کے میرے ساتھیوں سے پوچھتے ہیں کہ میں کون ہوں اور جب میرے ساتھی بتاتے ہیں کہ ’یہ ہماری والدہ کی طرح ہیں اور یہ بھی ایک ٹرک ڈرائیور ہیں‘ تو یہ بات ان کے لیے حیران کن ہوتی ہے۔ انھیں ایک خاتون ڈرائیور کو دیکھ کر ایک خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔

نیٹلی، اور شمیم ٹرک ڈرائیونگ کے شعبے میں مختلف وجوہات کی بنا پر داخل ہوئی ہیں۔

شمیم کو اپنے پانچ بچوں کی کفالت کرنےاور انھیں سکول بھیجنے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔ ان کے خاوند باغبانی کرتے ہیں اور بچوں کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ شمیم پہلے ڈرائیونگ سکھانے کا کام کرتی تھیں، پھر انھوں نے وین چلانا شروع کی اور پھر رواں سال موسم گرما میں 53 سال کی عمر میں اسلام آباد میں انھوں نے بڑے ٹرک چلانے کاامتحان پاس کر لیا ہے۔

نیٹلی نے اس کام کا آغاز ایک سال تک بے روزگار رہنے کے بعد اپنی والدہ کی حوصلہ افزائی کے بعد کیا۔ اُس وقت ان کی والدہ ٹرانسپورٹ کا ایک چھوٹا سا کاروبار چلاتی تھیں۔

Image caption شمیم کہتی ہیں کہ خاتون ٹرک ڈرائیور کو اپنے اندر کی عورت کو مارنا پڑتا ہے

اس کام کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جو خواتین کے حق میں نہیں جاتا، اور وہ ہے طویل مسافت کے دوران ٹرک سٹاپ پر رات گزارنے پر مجبور ہونا۔

اس سلسلے میں ڈرائیورز کی ایسوسی ایشن خواتین ٹرک ڈرائیوروں کو ہراساں ہونے سے بچنے کے لیے مشورہ دیتی ہے کہ وہ ٹرک پارک کرنے کی جگہ پر بالکل عقب میں اپنا ٹرک پارک نہ کریں، اور نہ ہی ٹرکوں کے درمیان سے گزریں۔

دوران سفر رات ٹرک میں گزارنے کی صورت میں نیٹلی کہتی ہیں کہ وہ ’ایک آنکھ کھول کر‘ سونے پر مجبور تھیں، جس کے باعث انھوں نے اتنے طویل مسافت والے سفر پر جانا ترک کردیاہے۔

دوسری جانب شمیم کہتی ہیں کہ خاتون ٹرک ڈرائیور کو اپنے اندر کی عورت کو مارنا پڑتا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’اب میں اپنے آپ کو ایک عورت کی طرح نہیں محسوس کرتی۔ میری خواہش ہے کہ خدا سب خواتین کی حفاظت کرے تاکہ کمانے کے لیے انھیں باہر نہ نکلنا پڑے۔ لیکن اگر معاشی پریشانیوں کے باعث انھیں نکلنا پڑے تو انھیں یہ بھول جانا چاہیے کہ وہ عورت ہیں۔ انھیں صرف کام پر دھیان دینا چاہیے اور اپنے اندر کی عورت کو مار دینا چاہیے۔۔۔ انھیں صرف بہادر ہونے کی ضرورت ہے۔‘

کچھ لوگ ایسی بھی ہیں جو اس پہ بحث کرتے نظر آئیں گے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں اچھی ٹرک ڈرائیور ہوتی ہیں۔

Image caption شمیم کے مطابق اگر جب کبھی ان کا ٹرک خراب ہو جاتا ہے تو مرد ڈرائیور بخوشی مدد کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں

مڈلز برا میں نیٹلی کے مالکان، وارڈ برادرز کے برینڈا اور سٹیو وارڈ کے پاس اس وقت 120 مرد ڈرائیوروں میں صرف تین خواتین ڈرائیور ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ اس تعداد میں اضافے کے خواہشمند ہیں۔

برینڈا کہتی ہیں ’خاتون ہونے کے حیثیت سے بظاہر وہ کمزور اور اس کام کے قابل نہیں لگتیں، لیکن وہ اس بارے میں آپ کی رائے تبدیل کرکے اپنے آپ کو منوانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ وہ اتنی ہی مضبوط ہیں جتنے کے مرد: ’وہ اپنے کام میں اچھی ہیں اور وہ زیادہ مسائل بھی پیدا نہیں کرتیں، اور وہ اپنے کام کے ساتہ بہت مخلص بھی ہیں۔‘

نیٹلی کہتی ہیں کہ وہ ’اپنی زندگی بنا رہی ہیں‘۔ اپنے دوستوں کی طرح کار سیکٹر یا کسی دوسرے شعبے کے مقابلے میں یہ کام ان کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

وہ اپنی ٹرک کے لیے کہتی ہیں کہ وہ ان کا ’پہیوں پر چلنے والا آفس‘ ہے: ’اصل میں یہ میرے کام کرنے کی جگہ ہے۔ اور یہاں میں بااختیار ہوں۔‘

اسی بارے میں