کھانے کی میز پر بحث کا مینیو کیا ہے؟

Image caption اوباما نے کہا ہے کہ ان کی خفیہ ایجنسیوں کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں کہ دولت اسلامیہ تھینکس گیونگ کے موقع پر امریکہ کےاندر کہیں حملہ کرسکتی ہے

امریکہ میں ان دنوں موسم تو شکرگزار ہونے کا ہے، معاف کرنے اورگلے لگنے کا ہے، یعنی یوم تشکر یا تھیکنس گيونگ ہے۔ لیکن ماحول بلیم گيونگ، ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے، آنکھیں دکھانے اور تو تو میں میں کا ہے۔

ہر سال کی طرح اوباماجي نے دو موٹی تازی ٹركيوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان کی جان بخش دی ہے، تصویر كھنچوا لی اور اپنا فرض پورا کردیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مجھے دونوں ٹركياں کچھ سہمی سہمی سی لگ رہی تھیں کیونکہ ٹی وی پر چل رہی بحث سن سن کر انھیں بھی شاید لگنے لگا ہوگا کہ اوباما تو ان کی حفاظت کرنے سے رہے۔ کوئی بڑی بات نہیں کہ وہ بھی ہڑتال کر دیں کہ ان کے سر پر پوتن یا ریپبلکنزپارٹی کے امیدواروں کا ہاتھ رکھا جائے۔

میں جس وقت یہ لکھ رہا ہوں اس وقت امریکی خاندان عشائیے کے لیے کھانے کی میز کے آ‎س پاس بیٹھ چکے ہیں، تیز امریکی چاقوں سے کاجو بادام سے ٹھوسي ہوئی ٹرکی کو بڑی نزاکت سے کاٹ کاٹ کر پلیٹوں میں رکھا جا رہا ہے اور اوپر والے کا شکریہ بھی ادا کیا جا رہا ہے کیونکہ انھیں بہترین کھانا نصیب ہو رہا ہے۔

لیکن جب پیٹ بھرے گا تو کھانے کی ٹیبل پر بحث شروع ہوگی اور امریکہ کا دبا ہوا غصہ ڈکار بن کر باہر آئے گا۔ اندازہ ہے کہ اس بار بحث کے مینو پر سب سے اوپر دولت اسلامیہ، دہشت گردی، مسلمان، شام سےجان بچا کر بھاگ رہے پناہ گزین اور ان معاملات پر کچھ حد تک اونگھتے ہوئے نظر آنے والے اوباما بھی ہوں گے۔

بحث میں تھوڑا بہت ذکر شاید سیاہ فام گورے اور نسل پرستي کا بھی ہو، لیکن معیشت، تعلیم کی آسمان چھوتی قیمتیں، آئی فونز کے نئےماڈلز، كارڈرشياں کا خاندان، بلیک فرائڈے کی سب سے بہترین سیلز،گھروں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، نئی ڈیٹنگ سائٹز، مشیل اوباما کےکپڑے، بل کلنٹن کے لپھڑے، ان سب پر ’مسلمز، ریڈیكل اسلام، لون وولفاٹیک‘ بھاری پڑیں گے۔

ایک کہےگا کہ بش کی وجہ سے دولت اسلامیہ پیدا ہوئی، دوسرا اس کے لیے اوباما کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔11 ستمبر کے حملے کے سبب جب ٹوئن ٹاورز گرے تو نیو جرسی کے مسلمانوں نے تالیاں بجائیں یا نہیں، 14 سال بعد ایک بار پھر اس پر بحث ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کا صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ارب پتی تاجر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر وہ صدر بن گئے تو امریکہ کی جانب سے قبول کیے گئے تمام شامی پناہ گزینوں کو واپس بھیج دیا جائے گا

ریپبلکنز پارٹی کے صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں سب سے آگے چلر ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ تال ٹھونک کر کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے ٹی وی پرمسلمانوں کو تالی بجاتے دیکھا تھا، کچھ دوسرے امیدوار بھی کہنے لگے ہیں کہ انھوں نے بھی کچھ ایسا ہی دیکھا تھا۔ شامت بیچارے ٹی وی چینلز کی آئی ہوئی ہے کیونکہ انھوں نے نہ تو کوئی ایسی ویڈیو دیکھی ہے نہ ابھی تک دکھائی ہے۔

اس بحث میں ایک گروپ ٹرمپ صاحب کے بیان کے ساتھ ہو جائے گا، دوسرا نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی درجہ بندی دیکھتے ہوئے ان کی باتوں میں ہاں میں ہاں ملائےگا، تیسرا ان کے خلاف کرنے کی کوشش کرے گا۔

اندازہ یہ بھی ہے کہ ہوائی جہاز کی مہنگی ٹکٹیں خريدكر، گھر یا اچھی بھلی گرم لحاف چھوڑ کر ایئر پورٹ پر بھاری سکیورٹی جھیل کر، مہینوں سے اسی موقع کے لیے پالی گئی ٹركيوں کو حلال کر کے ایک جگہ جمع ہوئے بھائی بہن، ماں باپ، دادا دادی، بیوی بچے اس یوم تشکر پر اتنی تیکھی بحث کریں گے کہ اس سے پیدا ہوا غصہ شاید کرسمس تک بھی ٹھنڈا نہ ہو۔

اوباما نے کہا ہے کہ ان کی خفیہ ایجنسیوں کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں کہ دولت اسلامیہ تھینکس گیونگ کے موقع پر امریکہ کےاندر کہیں حملہ کرسکتی ہے، لیکن امریکی ڈرائنگ روم اور ڈائننگ کمرےکے اندر تو اس کی مار پڑ چکی ہے۔

اسی بارے میں