شام میں اعتدال پسند جنگجوؤں کی تعداد کتنی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے شام میں فضائی کارروائی کرنے کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو ہدف بنانے کے ساتھ سفارتی کوششیں بھی کی جائیں جس میں شام میں حکومت مخالف گروہ شامی حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں اور انتقال اقتدار کا طریقہ وضع کریں۔

انھوں نے کہا کہ شام میں 70 ہزار جنگجو ایسے ہیں جو انتہا پسند گروہوں سے تعلق نہیں رکھتے اور وہ شامی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے دی جانے والی اس تعداد میں کافی لوگ چونکے کیونکہ اس بارے میں وضاحت نہیں دی گئی کہ یہ جنگجو کون ہیں، کہاں لڑ رہے ہیں اور ان اعتدال پسند گروہوں کا القاعدہ اور دولت اسلامیہ کے ساتھ کس قسم کے روابط ہیں۔

’رقہ نے اپنی روح کھو دی ہے‘

بہت سے سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں نے اس تعداد کو رد کر دیا ہے۔

اعتدال پسند اور سخت گیر جنگجو

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک ہفتے میں کئی تجزیہ کاروں نے کوشش کی ہے کہ ان جنگجوؤں کی نشاندہی کی جائے۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے چارلز لسٹر نے اہم گروہوں میں جنگجوؤں کی تعداد 65 ہزار بتائی ہے جبکہ مزید دس ہزار جنگجو چھوٹے گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

یہ جنگجو چھ محاذوں پر لڑ رہے ہیں جو حلب سے دمشق اور اردن کے ساتھ سرحد تک ہیں۔

اگرچہ 65 سے 75 ہزار جنگجوں کی نشاندہی کرنا ممکن ہے جو شامی حکومت اور دولت اسلامیہ سے لڑ رہے ہیں، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ یہ جنگجو خاص طور پر شام کے شمالی علاقوں میں موجود جنگجو اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ وہ القاعدہ یا دولت اسلامیہ کے ساتھ لڑ سکیں۔

مثال کے طور پر سات مختلف گروہوں کا اتحاد جیش الفتح میں القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کے سلفی جہادیوں کے ساتھ احرار الشام اور جند الاقصیٰ کے ناقابل قبول جنگجو ہیں۔

اسی اتحاد میں اجند سالشام اور فیلق الشام کے جنگجو کی یہ سوچ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جیش الفتح میں عددی لحاظ سے اعتدال پسند جنگجو سخت گیر جنگجوؤں کے سامنے بے بس ہیں۔

بکھرے مخالفین

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY

مشرقی دمشق اور ملک کے جنوبی علاقوں میں صورتحال زیادہ واضح ہے۔ اردن اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ جنگجو کو بشار الاسد کی فوجوں کے خلاف کامیابیاں مل رہی ہیں اور جب بھی ان کا سامنا دولت اسلامیہ سے ہوتا ہے تو وہ بے رحمی سے ان سے ٹکراتے ہیں۔

جیش الاسلام اس علاقے میں رہنے والے شامی شہریوں کی نمائندگی نہیں کرتے اور یہ جہادی گروہ بھی نہیں ہے۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ یہ باغی ایک یکجا فوجی قوت نہیں ہیں لیکن یہ ایک ساتھ کسی منظم فوج کی مانند حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ مختلف گروہ اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں سماجی اور سیاسی کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

کرد جنگجو

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

70 ہزار جنگجوؤں کی واضح نشاندہی سے قطع نظر ان میں کرد جنگجو شامل نہیں ہیں۔

کرد جنگجوؤں پر مبنی پاپولر پروٹیکشن یونٹس بڑی تنظیم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کا حصہ ہے۔ یہ گروہ 900 کلومیٹر کے محاذ پر دولت اسلامیہ کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں زیادہ کرد آبادی ہے۔

یاد رہے کہ مغربی ممالک کی فضائیہ کرد جنگجوؤں کی مدد ایک سال سے کر رہی ہے اور کرد جنگجو مغربی ممالک کی دولت اسلامیہ کے خلاف حکمت عملی کا حصہ ہے چاہے وہ بشار الاسد کے خلاف لڑیں یا نہیں۔

اس لیے بشار الاسد کو مذاکرات کی میز پر لانے اور دولت اسلامیہ کو شکست دینے کی مغرب کی دوہری پالیسی کے حامی جنگجوؤں کی اصل تعداد ایک لاکھ اسے ایک لاکھ 20 ہزار کے درمیان ہے نہ کہ 70 ہزار۔

اسی بارے میں