’دولتِ اسلامیہ پر فضائی حملوں پر رائے شماری بدھ کو‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption برطانوی حکومت کا موقف ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کو عراق تک محدود رکھنا ’غیر منطقی‘ ہے

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر فضائی حملوں کے سلسلے میں دارالعوام میں بدھ کو رائے شماری کی جائے۔

حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن نے اس معاملے پر دو روزہ بحث کا مطالبہ کیا تھا تاہم پیرس سے واپسی پر ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ بحث کے لیے ایک دن کافی ہے۔

شام میں دولتِ اسلامیہ پر حملے ’برطانوی مفاد میں ہیں‘

امریکہ کا دولتِ اسلامیہ کے خلاف تعاون کا مطالبہ

جرمنی کا دولتِ اسلامیہ کے خلاف مزید اقدامات کا عزم

تاہم جیریمی کوربن نے اپنی جماعت کے ارکانِ پارلیمان کو معاملے کی حمایت یا مخالفت کے لیے پابند نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان میں فضائی حملوں کے حامیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور کوربن کا فیصلہ ’درست اور قومی مفاد میں ہے۔‘

تاہم جیریمی کوربن نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے اس اہم معاملے پر دارالعوام میں دو دن بحث کرنے سے انکار سے ظاہر ہے کہ ان کا موقف کمزور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ برطانوی پارلیمان میں فضائی حملوں کے حامیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے

انھوں نے ڈیوڈ کیمرون سے کہا کہ وہ ’جنگ میں کودنے کے لیے جلدی نہ کریں۔‘

خیال رہے کہ کیمرون پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ شام میں دولتِ اسلامیہ پر فضائی حملے ملک کے ’قومی مفاد‘ میں ہیں۔

برطانوی دارالعوام میں گذشتہ جمعرات کو اپنے خطاب میں انھوں نے ان خیالات کو بھی رد کیا تھا کہ ایسا کرنے سے برطانیہ دہشت گردی کی کارروائیوں کا بڑا ہدف بن سکتا ہے۔

اپنی تقریر میں ڈیوڈ کیمرون کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’برطانیہ اپنے تحفظ کی ذمہ داری اپنے اتحادیوں پر نہیں ڈال سکتا‘ اور اسے فرانس کا ساتھ دینا ہوگا۔

خیال رہے کہ برطانوی پارلیمان کے ارکان سنہ 2013 میں شام کی حکومتی افواج کے خلاف فضائی حملوں کی مخالفت کر چکے ہیں تاہم انھوں نے بعدازاں عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی تھی۔

حکومت کا موقف ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کو عراق تک محدود رکھنا ’غیر منطقی‘ ہے کیونکہ یہ تنظیم عراق اور شام کی سرحد کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔

اسی بارے میں