امریکہ کا عراق میں فوجی دستے تعینات کرنےکا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ کے خصوصی دستے دولت اسلامیہ کے رہنماؤں کوگرفتار کرنے اور مغویوں کو رہا کرانے کے لیےکارروائیاں کر سکیں گے: ایشٹن کارٹر

امریکہ کے وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ امریکہ نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ پر دباؤ بڑھانے کے لیےخصوصی فوجی دستے عراق میں تعینات کرے گا۔

کانگریس کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا کہ عراقی حکومت کے مکمل تعاون کے ساتھ عراقی اور کرد پیشمرگہ کی مدد کے لیے امریکہ کے خصوصی دستے تعینات کیے جا رہے ہیں۔

جرمن کابینہ کی ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف جنگ کی حمایت

وزیر دفاع نے کہا کہ عراق میں تعینات امریکی فوجی دستے شام میں یکطرفہ کارروائیوں کرنے کے مجاز ہوں گے۔

وزیردفاع نے کانگریس کی آرمڈ سروسزّ کمیٹی کو بتایا کہ امریکہ کے خصوصی دستے دولت اسلامیہ کے رہنماؤں کوگرفتار کرنے اور مغویوں کو رہا کرانے کے لیے آزادانہ کارروائیاں کر سکیں گے۔

شام سے جنم لینے والی شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ نے 2014 میں شمالی عراق کے وسیع علاقوں پر اپنا قبضہ جما لیا تھا۔

امریکہ سربراہی میں 65 ملکوں کا اتحاد نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف عراق اور شام میں فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔

ادھر جرمنی کی کابینہ نے منگل کے روز شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں فوجی مدد فراہم کرنے کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔

خطے میں جاسوسی کرنے والا ٹورناڈو ہوائی جہاز، ایک بحری جنگی جہاز اور 1200 فوجیوں کو بھیجنے کی تجویز پر بدھ کو پارلیمان میں رائے شماری ہوگی۔

برطانیہ کی پارلیمان میں بھی بدھ کو شام میں ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف جنگ میں شمولیت کے حوالے سے بحث اور ووٹنگ ہوگی۔