’دولتِ اسلامیہ کے خلاف روسی کارروائیاں فیصلہ کن اور موثر‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بشار الاسد کے مطابق شام میں روسی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند گروپ کمزور ہوئے ہیں

شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں جاری لڑائی میں روس کی شمولیت سے جنگ کا توازن تبدیل ہوا ہے اور امریکہ کی زیرِ قیادت اتحاد کے برعکس دولتِ اسلامیہ کے خلاف روس کی عسکری سرگرمیاں فیصلہ کن اور موثر ثابت ہوئی ہیں

چیک ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک کے ایک سال سے جاری فضائی حملوں کے باوجود دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کی پیش قدمی نہیں روکی جا سکی تھی۔

کیا دولتِ اسلامیہ پسپا ہو رہی ہے؟

’بہتان طرازی روس کی روایت ہے، ثبوت ہے تو فراہم کریں‘

شام میں اعتدال پسند جنگجوؤں کی تعداد کتنی؟

ان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند گروپ کمزور ہونا شروع ہوگئے۔

بشار الاسد نے کہا کہ ’(امریکہ کی سربراہی میں) اتحاد کی قیام کے بعد سے اگر آپ حقائق کی بات کریں تو دولتِ اسلامیہ کا اثر بڑھا ہی ہے اور دنیا بھر سے ان کی بھرتی میں اضافہ ہوا ہوا۔ تاہم جب سے اس جنگ میں روس شامل ہوا ہے دولتِ اسلامیہ اور النصرہ سمیت دیگر دہشت گرد گروپ سکڑ رہے ہیں۔ چنانچہ یہی حقیقت ہے جو ثبوتوں سے ظاہر ہے۔‘

بشار الاسد کا کہنا تھا کہ شام میں ’روسی مدد اور شراکت مضبوط تر ہو رہی ہے اور وہ پہلے سے ہی مضبوط ہے اور اس سلسلے میں پیچھے ہٹنے کا کوئی امکان نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption راک اوباما نے ترکی اور روس پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی کرتے ہوئے اپنے ’مشترکہ دشمن‘ کے خلاف اقدامات کریں

واضح رہے کہ روس شام میں صدر بشار الاسد کے مخالف باغیوں سمیت دولت اسلامیہ کو فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنا رہا ہے۔

ترکی کی جانب سے روسی طیارہ گرائے جانے سے متعلق سوال پر شامی صدر نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوغان اس نئی صورتحال میں اپنے اعصاب پر قابو نہیں رکھ پا رہے۔

’میرے خیال میں اس سے اردوغان کی اصل نیت سامنے آئی ہے جو کہ اس لیے اپنے اعصاب پر قابو کھو بیٹھے ہیں کہ روسی مداخلت نے زمین پر جنگ کا توازن تبدیل کر دیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’شام میں اردوغان کی ناکامی یعنی ان کے دہشت گرد گروپوں کی ناکامی کا مطلب ان کی سیاسی موت ہے۔اس لیے وہ کامیابی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور اسی لیے انھوں نے یہ کیا لیکن میرے نزدیک اس سے فرق نہیں پڑے گا کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔‘

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے ترکی اور روس پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی کرتے ہوئے اپنے ’مشترکہ دشمن‘ کے خلاف اقدامات کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی صدر نے انٹرویو میں اپنے ترک ہم منصب پر شدید تنقید کی اور ان پر دولتِ اسلامیہ کے خلاف کامیابیوں کی راہ میں روڑے اٹکانے کا الزام لگایا

پیرس میں ترک صدر سے ملاقات میں صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ ترکی کی جانب سے اپنی فضائی حدود کے تحفظ کا حامی ہے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترکی اور روس کو اب ’کشیدگی میں کمی لانی چاہیے اور معاملے کا سفارتی حل تلاش کرنا چاہیے۔‘

دولتِ اسلامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم سب کا دشمن ایک ہی ہے اور میں یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ ہماری توجہ مکمل طور پر اس خطرے پر مرکوز رہے۔‘

براک اوباما نے یہ بھی کہا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں روس کی حکمتِ عملی میں مکمل تبدیلی کی توقع نہیں کر رہے تاہم انھیں امید ہے کہ آئندہ چند ماہ میں شام کے بارے میں روسی اندازوں میں فرق آئے گا۔

خیال رہے کہ جہاں روس شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے بڑے حامیوں میں سے ایک ہے وہیں ترکی کا موقف ہے کہ بشار الاسد شام کے مسئلے کے کسی طویل المدتی حل کا حصہ نہیں ہو سکتے۔

اسی بارے میں