ارکانِ پارلیمان اسمبلی میں آنسو گیس کیوں پھینک رہے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حالیہ ہفتوں میں پرسٹینا کی پارلیمان میں آنسو گیس کے استعمال کے پانچ واقعات پیش آچکے ہیں

پرسٹینا، جس نے سنہ 2008 میں کوسوو سے یک طرفہ طور پر آزادی کا اعلان کیا تھا، شاید دنیا کی سب سے کم عمر قومی اسمبلی کی میزبانی کرنے والا علاقہ بننے جا رہا ہے۔

کوسوو کے لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور

کوسوو میں چھاپے، مساجد کے آئمہ سمیت 15 گرفتار

لیکن حالیہ ہفتوں میں پریسٹینا پارلیمانی ناکامی کے معاملے میں دنیا بھر میں اول نمبر پر رہا ہے۔

پانچ الگ الگ واقعات میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی کے اندر آنسو گیس کے استعمال کے علاوہ ارکانِ پارلیمان کو اسمبلی سے باہر دھکیلا بھی ہے۔

تازہ ترین واقعے کے دو دن بعد بدھ کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پرسٹینا کا دورہ کیا تھا، جہاں پارلیمان میں جو رویہ روا رکھا جاتا ہے وہ امریکی پارلیمان میں کارروائی کو التوا میں ڈالنے کے طریقے ’فلی بسٹر‘ سے کہیں مختلف ہے۔

جمہوری اصولوں کے دفاع میں آنسو گیس کا استعمال یقینی طور پر ایک غیر معمولی طریقہ ہے، لیکن پرسٹینا کی حزب اختلاف کی جماعتیں انھی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے البن کرتی کو آنسو گیس کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا ہے

البن کرتی نامی رہنما کی قیادت میں ’ویتوندوژ‘ پارٹی اور سابق وزیر اعظم راموش ہرادناج کی ’اے اے کے‘ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے سربیا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدوں پر تمام جماعتوں کو بحث نہیں کرنے دی تھی۔

البن کرتی کو آنسو گیس کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پولیس کی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

البن کرتی کے سیاسی مشیر اربر زائیمی نے کہا کہ ’ہم نے آنسو گیس کی حکمت عملی کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پرسٹینا میں حزب اختلاف کی ایک جماعت کا جلسہ

اربر زائیمی نے مزید کہا: ’پارلیمان میں ہمارے فعل کی اطلاعات بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور فیصلہ سازوں تک پہنچ رہی ہیں۔ اس سے قبل لوگوں کو جمہوریت کے حوالے سے کوسوو اتنا اہم نہیں لگتا تھا لیکن اب ہم نے دو لاکھ لوگوں سے ایک درخواست پر دستخط بھی کروا لیے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمارے بارے میں بین الاقوامی رائے بدلے گی۔‘

لیکن دراصل ان سرگرمیوں سے بین الاقوامی فیصلہ ساز بالکل بھی متاثر نہیں ہوئے ہیں۔

اس وقت پرسٹینا میں سب سے بڑا اور مہنگا سفارتی مشن تعینات کرنے والی یورپین یونین نے آنسو گیس کے سب سے تازہ ترین واقعے کے بعد کہا ہے کہ: ’ نہ اس قسم کی پر تشدد کارروائیاں قابل قبول ہیں اور نہ ہی ایسی کارروائیاں کوسوو کے باشندوں کے مسائل حل کر سکی ہیں۔‘

لیکن کئی مقامی شہری اس بات سے متفق نہیں ہوں گے۔

اس ہفتے ’کوہا دتور‘ اخبار کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق البن کرتی کی ویتوندوژ جماعت کوسوو کی دوسری سب سے مقبول پارٹی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ غیر ملکی مداخلت کے خلاف ایک طویل عرصے سے اس پارٹی کا موقف ہے جو لوگوں میں بہت مقبول ہوا ہے۔

یہ مسئلہ تب شروع ہوا تھا جب اگست میں کوسوو اور سربیا کے درمیان معمول کے تعلقات پیدا کرنے کے لیے یورپی یونین کی مدد سے ایک معاہدے طے ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جان کیری نے کہا ہے کہ پارلیمان میں آنسو گیس کا استعمال نہیں ہونا چاہیے

اس معاہدے کے تحت اُن علاقوں کو اپنے مقامی معاملات میں محدود خود مختاری کے ساتھ ساتھ بلغراد کی جانب سے فنڈنگ فراہم کیے جانے ہیں جہاں نسلی سرب اکثریت مقیم ہے۔

لیکن کوسوو میں مقیم البانی اکثریتی باشندے اس معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھیں خدشات ہیں کہ ان کے ملک میں بوسنیا کی طرح ایک تباہ کن بٹوارے کی صورت حال پیش آ سکتی ہے۔

’کوسوار سٹبلیٹی انیشی ایٹو‘ کے بانی اور ایک خود مختار تجزیہ کار بیسہ شاہنی کا کہنا ہے: ’اس مسئلے کا عمل شروع سے ہی شفاف نہیں تھا۔ اس معاہدے نے کوسوو کے سرب لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے بجائے کوسوو میں سربیا کی ضرورتوں کو پورا کیا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ حالاں کہ زیادہ تر لوگ حزب اختلاف کی آنسو گیس کی حکمت عملی کی حمایت نہیں کرتے، لیکن وہ یورپی یونین کے نقطہ نظر سے بھی پریشان ہیں۔

بیسہ شاہنی نے مزید کہا: ’ای یو کا مسئلہ یہ ہے کہ برسلز میں بحث کا منصوبہ اس کا اپنا ہے اس لیے اس منصوبے پر کسی بھی قسم کی تنقید کو وہ ذاتی توہین سمجھتی ہے۔ اس وجہ سے وہ آنکھیں بند کر کے اپنے منصوبے کی حفاظت کرتی ہے اور ان سب کی مذمت کرتی ہے جو اس منصوبے پر تنقید کرتے ہیں۔‘

لیکن حکومت اصرار کرتی آ رہی ہے کہ سربیا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا واحد طریقہ ہی موجودہ صورت حال کو بہتر کرے گا۔

کوسوو کی آزادی کو برازیل، چین، روس اور بھارت سمیت کئی ممالک اور ای یو کی رکن ریاستوں نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

کوسوو اقوام متحدہ کا رکن نہیں ہے بلکہ اس کا تو کوئی بین الاقوامی ٹیلیفون نمبر بھی نہیں ہے۔ لیکن برسلز کے معاہدے کے تحت اسے اپنا ٹیلیفون نمبر بھی دیا جائے گا۔

اگر دونوں فریق اپنے موقف میں کسی قسم کی لچک نہیں دکھاتے تو شاید کوسوو کی قومی اسمبلی میں کھلی سانس لینے میں کچھ وقت لگے۔

اسی بارے میں