ترک رہنما پچھتائیں گے: صدر پوتن

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے ترکی کی جانب سے روسی جہاز گرائے جانے پر ترکی کے رہنماؤں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

روسی پارلیمنٹ سے سٹیٹ آف دی نیشن خطاب میں روسی صدر نے کہا کہ ’اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ روس کا رد عمل تجارتی پابندیوں تک ہی محدود رہے گا تو وہ مغالطے میں ہے۔ ہم ان کو دوبارہ یاد کرائیں گے کہ انھوں نے کیا کیا اور وہ پچھتائیں گے۔‘

’اللہ نے ترکی کے حکمرانوں کو سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے‘

کسی کو ترکی پر بہتان تراشی کا حق نہیں: اردوغان

روس اور ترکی کیا چھپا رہے ہیں؟

بہتان تراشی روس کی روایت ہے، ’ثبوت ہے تو فراہم کرے‘

ترکی نے تیل کی تجارت محفوظ بنانے کے لیے طیارہ گرایا: پوتن

پوتن نے اپنے خطاب میں دہشت گردی پر تفصیلی بات کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ kremlin.ru
Image caption ’اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ روس کا رد عمل تجارتی پابندیوں تک ہی محدود رہے گا تو وہ مغالطے میں ہے‘

پارلیمنٹ سے خطاب کے آغاز میں انھوں نے روسی جہاز ایس یو 24 کے حادثے میں ہلاک ہونے والے پائلٹ اور ریسکیو مشن کے دوران ہلاک ہونے والے میرین کی بیواؤں کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان دونوں اہلکاروں کی بیواؤں کو اس خطاب کے موقعے پر کریملن مدعو کیا گیا تھا۔

اپنے خطاب میں صدر پوتن نے ترکی کی حکومت پر دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو پناہ دینے اور خفیہ مدد کرنے کا الزام عائد کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’ترکی کے رہنماؤں اور روس کے ترکی میں دیرینہ دوستوں کے درمیان فرق کر لیا ہے‘

پوتن نے ترکی کی جانب سے روسی جہاز گرائے جانے کے حوالے سے کہا ’شاید اللہ ہی جانتا ہے کہ انھوں نے کیا کیا ہے، اور ظاہراً اللہ نے ترکی کے حکمرانوں کو سزا دی ہے کہ ان کے پاس نہ تو کوئی جواز ہے اور ہی وجہ۔‘

انھوں نے کہا کہ ترکی کے رہنماؤں اور روس کے ترکی میں دیرینہ دوستوں کے درمیان فرق کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ 24 نومبر کو ترکی نے روس کا ایس یو 24 جنگی جہاز مار گرایا تھا۔ ترکی کا کہنا ہے کہ اس جہاز کو خبردار کیا گیا تھا اور اس کو ترکی کی فضائی حدود میں گرایا گیا۔

روس نے ترکی پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے جن میں ترکی کو پھل، سبزیاں اور دیگر اشیائے خورد و نوش بیچنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ روسی شہری خصوصی پیکیج پر ترکی میں چھٹیاں منانے نہیں جا سکتے۔

روسی صدر پوتن نے اپنے خطاب میں کرائمیا کے بارے میں روس کے ساتھ ’دوبارہ اتحاد‘ کا لفظ استعمال کیا۔ واضح رہے کہ ماسکو کو کرائمیا میں مداخلت پر بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں