ایم ایچ 370 کی تلاش ممکنہ طور پر صحیح علاقے میں جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آسٹریلیا کے نائب وزیر اعظم وارن ٹراس کا کہنا ہے کہ حکام ’پُر امید‘ ہیں کہ جہاز کو ڈھونڈ لیا جائے گا

آسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ ملائیشین ایئر لائنز کے تقریباً دو برس قبل لاپتہ ہونے والے مسافر جہاز جہاز ایم ایچ 370 کے ملبے کی تلاش درست علاقے میں جاری ہے۔

آسٹریلیا کے دفاعی ادارے کے تحت کی جانے والی معلومات کے نئے تجزیے کے مطابق ملبہ ممکنہ طور پر بحر ہند کی جنوبی جانب ہو سکتا ہے، اس لیے جہاز کی تلاش کے لیے بھی اسی حصے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

’جہاز کے پر کا ٹکڑا یقینی طور پر ملائشیا کے لاپتہ طیارے کا ہے‘

مارچ سنہ 2014 میں کوالالمپور سے چین کے شہر بیجنگ جا تے ہوئے ملائیشین ائیر لائن کا مسافر طیارہ لا پتہ ہوگیا تھا۔ جہاز پر اس وقت 239 افراد سوار تھے۔

آسٹریلیا کے نائب وزیر اعظم وارن ٹراس کا کہنا ہے کہ حکام ’پُر امید‘ ہیں کہ جہاز کو ڈھونڈ لیا جائے گا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے جون 2016 تک جہاز کی تلاش ختم کردی جائے۔

جہاز کی تلاش آسٹریلیا کی نگرانی میں اس کے شہر پرتھ سے دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر تقریباً سوا لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پرسمندری تہہ میں جاری ہے۔

اس تلاش میں مخصوص بحری جہازوں کے زیرِآب ڈرونز اور سونار آلات استعمال کیے جارہے ہیں۔

جہاز کی تلاش کے عمل کی نگرانی کرنے والے آسٹریلوی ادارے جوائنٹ ایجنسی کوآرڈی نیشن سنٹر (جے اے سی سی) کا کہنا ہے کہ 75 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد سمندری تہہ کو چھانا جا چکا ہے تاہم جہاز کے کوئی آثار نہیں ملے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جہاز کا فلیپرون رواں سال جولائی میں ری یونین جزیرے سے ملا تھا

جہاز کے پر کا فلیپرون نام کا ایک ٹکڑا رواں سال جولائی میں تلاش کے لیے منتخب علاقے سے تقریباً چار ہزار کلومیٹر دور ری یونین جزیرے سے ملا تھا۔

فرانس میں جہاز کے پر کے ٹکڑے کی جانچ پڑتال سے اس بات کی تصدیق ہوگئی تھی کہ وہ ٹکڑا ایم ایچ 370 کا ہی ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ لہروں کے زور پر اس ٹکڑے کے جزیرے پر پہنچنے سے تلاش کے منصوبے پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔

جمعرات کے روز آسٹریلین ڈیفنس، سائنس، اور ٹیکنالوجی گروپ کی جانب سے سرکاری رپورٹ جاری کی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’دستیاب اعدادوشمار کے جامع تجزیے‘ سے پتہ چلتا ہے اور تقریباً یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ایم ایچ 370 تلاش کے لیے منتخب کیے گئے سمندری علاقے کے جنوبی جانب ہی گرا تھا۔

جے اے سی سی کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ ’اب تک کی جانے والی کوششوں اور تلاش کے لیے منتخب مرکز کی توثیق کرتی ہے۔‘

آسٹریلیا کہ شہر کینبرا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران نائب وزیراعظم ٹراس کا کہنا تھا کہ انھیں اب بھی ’امید ہے کہ ہم جہاز کو تلاش کر لیں گے‘ اور اس رپورٹ نے ’واقعی حوصلہ افزائی‘ کی ہے۔

ایم ایچ 370 جہاز کے لیے جاری اس تلاش پر ممکنہ طور پر تقریباً 18 کروڑ آسٹریلوی ڈالر کی لاگت آئے گی۔

اسی بارے میں