برطانوی فضائی حملوں پر شام میں ملاجلا ردِّعمل

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption شام میں بعض سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ مزید بمباری کا مطلب مزید نقصان ہے

برطانوی دارالعوام کی جانب سے شام میں خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف فضائی حملے کرنے کا اختیار ملتے ہی برطانوی فضائیہ نے بمباری کا آغاز کر دیا ہے۔

فرانس پہلے ہی پیرس میں ہونے والے حملوں کی بعد سے جہادیوں کے مضبوط ترین گڑھ رقہ میں بمباری کر رہا ہے۔

’شام پر برطانوی فضائی کارروائی میں وقت لگے گا‘

برطانوی دارالعوام نے شام میں فضائی حملوں کی منظوری دے دی

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ ان فضائی حملوں میں مشرقی شام میں دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ آئل فیلڈز میں چھ مقامات کو نشانہ بنائےگا۔

برطانیہ کے اس فیصلے پر کئی شامی اپنا ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔

دولت اسلامیہ کے مضبوط گڑھ میں شہریوں اور صحافیوں کے گروپ کا کہنا ہے کہ ’رقہ کو خاموشی کے ساتھ قتل کیا جا رہا ہے۔‘

اس گروپ نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ وہ برطانیہ کے حملوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم رقہ میں برطانوی فضائی حملوں کے مخالف ہیں۔ تمام دنیا رقہ پر بمباری کر رہی ہے اور برطانیہ کے آنے سے صورتحال میں تبدیلی نہیں آئے گی۔اگر برطانیہ لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہے تو اسے شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنا چاہیے اور سرحد کو بند نہیں کرنا چاہیے۔‘

’صرف رقہ پر فضائی بمباری سے دولت اسلامیہ کو شکست تو نہیں دی جاسکتی ہاں لوگوں کا مزید نقصان ہو سکتا ہے۔دولت اسلامیہ برطانیہ کی بمباری کو استعمال کر کے نئے مغربی لوگوں کو بھرتی کرے گا اور ہو سکتا ہے کہ وہ شدت پسند حملے کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فری سیریئن آرمی کے ترجمان نے مارک لووین کو بتایا کہ برطانیہ کی توجہ غلط دشمن پر ہے

دمشق سے بی بی سی کی نامہ نگار لیس ڈیوسٹ نے بتایا کہ دمشق میں شائع ہونے والے اخباروں میں شامی حکام کی جانب سے ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری مغربی ممالک کی کارروائیوں پر تنقید جگہ جگہ نظر آرہی ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ثناء کے مطابق شامی حکام کا کہنا ہے کہ ’برطانیہ نے شامی حکومت سے اجازت نہیں لی، کیمرون جھوٹ بول رہے ہیں۔‘

شامی حکام کا اس بات پر اصرار ہے کہ ’برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کو روس کی مثال لینی چاہیے اور شام کی سرکاری فورسز کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔‘

فری سیریئن آرمی کے ترجمان نے مارک لووین کو بتایا کہ ’برطانیہ کی توجہ غلط دشمن پر ہے۔بشارالاسد اور دولت اسلامیہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔آپ کو بشارالاسد سے آغاز کرنا چاہیے۔فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی تعاون دولت اسلامیہ کو ختم کر سکتا ہے۔‘

شامی تجزیہ کار حسن حسن کا کہنا ہے کہ ’بہت سے لوگ دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں لیکن مقامی لوگوں کو ڈر ہے کہ مغربی ممالک ابھی تو ان کی مدد کریں گے لیکن بعد میں چھوڑ کر چلے جائیں گے اور تب دولت اسلامیہ پھر سے انھیں ڈرائے گی۔انھیں طویل الامیعاد عہدو پیمان کی ضرورت ہے۔‘

مینچسٹر میں شامی کمیونٹی گروپ کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ برطانیہ کو جو خطرہ دولت اسلامیہ سے ہے وہی خطرہ اسد حکومت سے بھی ہے۔

اسی بارے میں