کیا چینی افریقہ میں گھل مل سکتے ہیں؟

زیمبیا کے شہر لوساکا کے بزنس کالج میں لو چینگ واحد چینی طالبہ ہیں لیکن ان کے قدم چینی اور زیمبیئن معاشرے میں پوری طرح جمے ہوئے ہیں۔

وہ کالج میں اپنے دوستوں کے ساتھ گٹار بجاتی ہیں جبکہ اپنے گھر پر چینی موسیقی کا آلہ گژینگ۔

لیکن ان سے پچھلی نسل کے چینی مہاجرین کے لیے ایک ثقافت سے دوسری ثقافت میں قدم رکھنے کا سفر اتنا آسان نہیں تھا۔

چین کا افریقہ میں 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

چین اور جنوبی افریقہ کے درمیان اربوں ڈالر کے معاہدے

سات سال قبل لو چینگ کے والدین چین سے مغرب کی جانب بہتر کاروباری مواقع کی تلاش میں نکلے تھے۔

لو چینگ کے والد لو جن اب زیمبیا میں مرغیوں کی خوراک کی فیکٹری چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے چند مقامی دوست بنائے ہیں تاہم وہ زیادہ وقت اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ گزارتے ہیں۔

لو چینگ نے اعتراف کیا کہ ان کے والدین اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ گریجویٹ ہو جائیں گی اور ان کے والدین اپنا ’فرض‘ ادا کرنے کے بعد ریٹائر ہونے کے بعد واپس چین چلے جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ دوستوں کے والدین کے مقابلے میں ان کے والدین زیادہ روایتی ہیں۔

بڑی عمر کے چینی شہریوں کا ایسا الگ تھلگ رہنے کی ایک وجہ ہے زبان نہ آنا۔

35 سال قبل چین میں انگریزی استاد ملنا محال تھا۔ اس روایت کا نتیجہ یہ نکلا کہ چینی شہریوں کی ایک نسل تیار ہو گئی جو گھر سے ہزاروں میل دور مدد کے لیے اپنی ہی برادری کی جانب دیکھتی ہے۔

لیکن نئی نسل کے ساتھ حالات میں تبدیلی آ رہی ہے۔

بین الاقوامی تجربہ

ہوانگ ہونگ زیانگ کینیا میں چائنا ہاؤس میں کام کرتے ہیں۔ چائنا ہاؤس افریقی اور چینی کاروباری لوگوں کے درمیان روابط بڑھانے کا کام کرتا ہے۔

وہ اعتراف کرتے ہیں کہ 20 سال قبل آئے ہوئے چینی باشندوں کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ اپنی ہی برادری میں رہتے ہیں اور دوسرے لوگوں سے زیادہ نہیں ملتے۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ ہے۔ ’ان کو نہیں معلوم تھا کہ مقامی کارکنوں کو کیسے ہینڈل کرنا ہے اور ان سے بات چیت کرنے میں دقت ہوتی تھی۔ اس کی وجہ سے وہ زیادہ تر وقت اپنی ہی برادری میں گزارنے لگے۔‘

لیکن نئی نسل افریقہ میں زیادہ بین الاقوامی تجربے کے ساتھ آ رہی ہے اور ان کی سوچ بھی اس براعظم کے بارے میں مختلف ہے۔

مجھے ایک مزدور ملی جن کی عرفیت ’چیری‘ تھی اور وہ سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور مڈغاسکر میں کام اور تعلیم حاصل کر چکی تھیں، اور اب وہ کینیا میں چینی فرنیچر بنانے والی کمپنی میں کام کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ تبدیلی کافی آسان تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ چین اور افریقہ میں کافی کچھ قدر مشترک ہے۔

ہونگ زیانگ کا کہنا ہے کہ نئی نسل اپنے والدین کی کاروباری دانش رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کو یہ علم ہے کہ جتنا زیادہ میل جول ہو گا اتنا زیادہ فائدہ ہو گا۔

لیکن یہ سوچ صرف کاروبار بڑھانے کی حد تک نہیں ہے بلکہ نئی نسل واقعتاً مقامی دوست بنانا چاہتی ہے۔

تاریخی روابط

دیگر ممالک کی طرح زیمبیا کے چینی شراکت کاروں کے ساتھ تعلقات میں بھی اتار چڑھاؤ آتا رہا ہے، خصوصاً ملک کے شمالی علاقے میں جہاں تانبے کی بہتات ہے۔

دونوں ممالک اور برادریوں کو ان کے تاریخی روابط قریب رکھتے ہیں۔ سنہ 1970 میں زیمبیا اور چین کے درمیان تعلقات صدر کینتھ کونڈا کے اقتدار میں پروان چڑھا ہے۔

اب چینیوں کی نئی مہاجر نسل کا بھی اس ملک میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

اسی بارے میں